نئی دہلی : اڈیشہ کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث ریاست میں سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 70 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 395 راحتی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے جاری شدید بارش کے باعث ریاست کی تمام اہم ندیوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی اتوار، 27 ستمبر کو جنوبی اڈیشہ کے متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے کریں گے۔پی ٹی آئی کے مطابق حکام نے بتایا کہ ریاست کے 13 اضلاع بالاسور، بھدرک، جاجپور، مایوربھنج، کالاہانڈی، کوراپٹ، نبرنگ پور، مَلکان گیری، کیونجر، نیاگڑھ، کندھمال، بولانگیر اور جگت سنگھ پور میں اچانک سیلاب اور پانی جمع ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
بالاسور میں صورتحال سنگین، تین ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر
ساحلی ضلع بالاسور میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین رہی، جہاں تین اہم ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ حکام کے مطابق شام 5 بجے جلیشور کے راج گھاٹ میں سبرن ریکھا ندی کی پانی کی سطح 11.07 میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ یہاں خطرے کا نشان 10.36 میٹر ہے۔پانی کی سطح بڑھنے کے باعث بھوگ رائے، جلیشور، بالی پال اور بستا بلاکس کے کئی گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں۔
بدبالنگ ندی بھی خطرے کے نشان سے اوپر
بدبالنگ ندی گووند پور میں قومی شاہراہ-16 کے قریب 8.8 میٹر کی سطح پر بہہ رہی تھی، جو خطرے کے نشان سے اوپر ہے۔ حکام نے بتایا کہ بالاسور میں کنسابانسا، سوا اور گنگاہار سمیت دیگر ندیاں بھی طغیانی پر ہیں۔مایوربھنج میں سملپال نیشنل پارک کے حکام نے دیوکُنڈ سیاحتی مقام کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ کئی ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں میں پانی کی سطح کافی بڑھ گئی ہے، اس لیے سیاحوں کو فی الحال پناہ گاہ میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔دیوکُنڈ جانے والے راستے پر کئی پل اور پلّیاں بھی بہہ گئی ہیں۔ بدبالنگ ندی کا پانی باری پاڑہ میونسپلٹی کے کچھ علاقوں کے علاوہ بڑساهی، بیتنٹی، اودلا، کپتی پاڑہ، ساراسکانا اور راس گووند پور بلاکس میں داخل ہو گیا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزیر نے کیا کہا؟
اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے سے اضافی پانی نکالنے کے لیے ہفتہ کو ہیرا کُڈ ڈیم کے مزید 11 گیٹ کھولے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک مجموعی طور پر 16 گیٹ کھولے جا چکے ہیں۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چھتیس گڑھ میں مہاندی کے بالائی آبی کیچمنٹ علاقے میں شدید بارش کی وجہ سے مزید گیٹ کھولنے پڑے ہیں۔ فی الحال ڈیم میں پانی کی سطح 629.56 فٹ ہے، جبکہ مکمل آبی ذخیرے کی سطح 630 فٹ ہے۔ حکام نے سیلاب سے متاثرہ اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے اور صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


