یورپ میں تعلیم کے گرتے معیار نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ دنیا کے کچھ مضبوط اور بااثر سمجھے جانے والے تعلیمی نظاموں کی کارکردگی میں کمی نے تعلیمی شعبے سے وابستہ ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ عالمی تعلیمی جائزے ’پیسا‘ یعنی پی آئی ایس اے کے 2025 کے نتائج میں فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے یورپی ممالک کے طلبہ کی ریاضی، مطالعہ اور سائنس سے متعلق کارکردگی میں کمزوری سامنے آئی ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں یہ نتائج کئی اہم سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بھارت نے بھی 2009 میں پیسا جائزے میں حصہ لیا تھا۔ اس کے نتائج حوصلہ افزا نہیں رہے تھے، جس کے بعد اس وقت کی حکومت نے اس میں شرکت روک دی تھی۔ اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم یعنی او ای سی ڈی کے پیسا جائزے میں 15 سال کی عمر کے طلبہ کی یہ صلاحیت جانچی جاتی ہے کہ وہ اسکول میں حاصل کیے گئے علم اور مہارت کو حقیقی زندگی کے حالات میں کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ 2025 کے جائزے میں 91 ممالک اور معیشتوں کے تقریباً 7.60 لاکھ طلبہ نے حصہ لیا۔
جرمنی میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں کمی
جرمنی میں طلبہ کی کارکردگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ وہاں تقریباً ہر 4 میں سے 1 طالب علم سائنس میں، جبکہ تقریباً ہر 3 میں سے 1 طالب علم مطالعہ اور ریاضی میں مطلوبہ کم از کم مہارت کی سطح تک نہیں پہنچ سکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جرمنی میں مطالعہ اور ریاضی میں کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کا تناسب بڑھا ہے۔
نیدرلینڈز اور فن لینڈ کی صورت حال بھی تشویش ناک
نیدرلینڈز میں طلبہ کی مطالعے کی صلاحیت خاص طور پر تشویش کا باعث بنی ہے۔ 2025 میں تقریباً 39 فیصد 15 سالہ طلبہ مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل نہیں کر سکے۔ 2022 میں یہ شرح تقریباً 33 فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈچ طلبہ کی مطالعے سے متعلق کارکردگی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ فرانس میں بھی پیسا کے نتائج اب تک کے کمزور ترین نتائج میں شامل رہے۔ وہیں طویل عرصے سے کامیاب تعلیمی ماڈل کے طور پر مثال دیے جانے والے فن لینڈ میں بھی ریاضی اور مطالعے میں طلبہ کی کارکردگی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کئی دہائیوں سے مضبوط سمجھے جانے والے تعلیمی نظاموں کو آخر کن نئی مشکلات کا سامنا ہے۔
کووڈ کے ساتھ دیگر عوامل بھی ذمہ دار
ماہرین اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کے درمیان اس گراوٹ کی وجوہات کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ کووڈ-19 وبا کے دوران تعلیم میں پیدا ہونے والے تعطل کو ایک اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، لیکن مسئلے کو صرف وبا تک محدود نہیں کیا جا رہا۔ طلبہ میں اسمارٹ فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات کے بڑھتے استعمال، اسکول سے غیر حاضری، مطالعے کی عادت میں تبدیلی اور سماجی و اقتصادی عدم مساوات جیسے مسائل کو بھی ممکنہ وجوہات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
صرف ایک ملک نہیں، کئی تعلیمی نظام متاثر
پیسا کے نتائج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تعلیمی کارکردگی میں کمی کسی ایک ملک یا کسی ایک تعلیمی ماڈل تک محدود نہیں ہے۔ او ای سی ڈی ممالک میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اوسط کارکردگی میں بھی وسیع پیمانے پر کمزوری دیکھی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظاموں کو بھی ڈیجیٹل دور میں یہ چیلنج درپیش ہے کہ بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں، خاص طور پر ریاضی، مطالعے اور سائنس کی سمجھ کو کس طرح مضبوط رکھا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



