نئی دہلی: مرکزی حکومت نے بین الاقوامی بازارمیں خام تیل کی قیمتوں اورتیل کمپنیوں کے منافع کو دیکھتے ہوئے پٹرول اورڈیزل کی برآمد پرلگنے والے ونڈ فال ٹیکس میں ایک بارپھراضافہ کردیا ہے۔ حکومت کے نئے حکم کے مطابق، 3 اگست سے برآمد ہونے والے پٹرول اورڈیزل پرپہلے کے مقابلے زیادہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
حکومت وقتاً فوقتاً عالمی بازارمیں خام تیل کی قیمت، برآمدی منافع اورآئل کمپنیوں کی آمدنی کا جائزہ لینے کے بعد ونڈ فال ٹیکس میں تبدیلی کرتی ہے۔ اس ٹیکس کا مقصد تیل کمپنیوں کوعالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے دوران ہونے والے اضافی منافع کا ایک حصہ سرکاری خزانے میں لانا ہے۔
ٹیکس میں کتنا ہوا اضافہ؟
حکومت کے مطابق، پٹرول کی برآمد پرونڈ فال ٹیکس 2.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھاکر3.5 روپئے فی لیٹرکردیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی برآمد پرٹیکس 15.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھا کر24 روپئے فی لیٹرکردیا گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں (نرخ) آج یعنی 3 اگست سے نافذ ہوگئی ہیں۔ جب عالمی بازارمیں خام تیل اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہوتا ہے توتیل پیدا کرنے والی اورریفائنری کمپنیوں کوغیرمعمولی منافع حاصل ہوتا ہے۔ حکومت اسی اضافی منافع پرخصوصی ٹیکس عائد کرتی ہے، جسے ونڈ فال ٹیکس کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد غیرمعمولی منافع کا ایک حصہ سرکاری آمدنی میں شامل کرنا ہوتا ہے۔
پہلے بھی ہو چکی ہیں تبدیلیاں
حالیہ جائزے کے دوران حکومت نے ڈیزل کی برآمد پرٹیکس 8.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھا کر15.5 روپئے فی لیٹرکیا تھا۔ اسی طرح ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پرٹیکس 7.5 روپئے فی لیٹرسے بڑھا کر14.5 روپئے فی لیٹرکردیا گیا تھا، جبکہ پٹرول پرٹیکس پہلے کم کرکے 2.5 روپئے فی لیٹرکیا گیا تھا، جسے اب بڑھا کر3.5 روپئے فی لیٹرکردیا گیا ہے۔
عام صارفین پرکیا اثرپڑے گا؟
فی الحال ونڈ فال ٹیکس میں یہ اضافہ صرف برآمد ہونے والے پٹرول اورڈیزل پرنافذ ہوگا۔ ملک کے اندرفروخت ہونے والے پٹرول اورڈیزل کی خوردہ قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اورحکومتی پالیسیوں کے مطابق ایندھن کی قیمتوں پراس کے اثرات دیکھنے کومل سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
