کوبرا پوسٹ کی ایک تحقیق میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کملہ پسند گروپ کے پروموٹر چورسیا خاندان کے آٹھ افراد نے مبینہ طور پر 2,547.49 کروڑ روپے کی غیر محسوب نقد رقم کو بینکاری نظام میں منتقل کرنے کے لیے جعلی ہیروں کی فروخت کا سہارا لیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم ہیروں کی فروخت سے حاصل ہوئی، حالانکہ تحقیقاتی اداروں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایسے ہیرے سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔
یہ رپورٹ بے نامی جائیداد کے لین دین کی روک تھام ایکٹ (PBPTA) کے تحت جاری کیے گئے احکامات اور محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائیوں کے تجزیے پر مبنی ہے۔
تحقیق کے مطابق، چورسیا خاندان نے انکم ڈیکلریشن اسکیم (IDS) 2016 کے تحت خام ہیروں کی ملکیت ظاہر کی اور بعد میں مالی سال 2017-18 سے 2021-22 کے دوران ان ہیروں کی مبینہ فروخت پر طویل مدتی سرمایہ جاتی منافع (Long-Term Capital Gains) کا دعویٰ کیا۔
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹیکس حکام کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ ہیرے حقیقت میں موجود تھے، اور مبینہ طور پر ان لین دین کا مقصد غیر محسوب نقد رقم کو قانونی شکل دینا تھا۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے حوالہ آپریٹروں اور درمیانی اداروں (Intermediary Entities) کے ذریعے رقم بینک کھاتوں میں منتقل کی گئی۔
ٹریبونل سے راحت، قانونی کارروائیاں جاری
تحقیق کے مطابق، پی بی پی ٹی اے ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے مبینہ لین دین سے حاصل کی گئی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی تھیں۔
تاہم بعد میں SAFEMA اپیلیٹ ٹریبونل نے ان ضبطی کے احکامات کو منسوخ کرتے ہوئے قرار دیا کہ ان جائیدادوں کو بے نامی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کوبرا پوسٹ کے مطابق، رپورٹ کی اشاعت تک متعلقہ حکام نے ٹریبونل کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (ITAT) میں اس معاملے سے متعلق کارروائی اب بھی زیرِ سماعت ہے۔اس کے علاوہ رپورٹ میں محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے پہلے کی گئی تلاشی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں مبینہ طور پر غیر ظاہر شدہ فروخت، ٹیکس چوری اور گروپ کے کاروباری معاملات سے منسلک پراکسی کارپوریٹ اداروں کے استعمال کے شواہد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔کوبرا پوسٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کی رپورٹ میں شامل تمام الزامات تحقیقاتی دستاویزات اور عدالتی ریکارڈ پر مبنی ہیں، جبکہ اس معاملے سے متعلق قانونی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


