نئی دہلی : مصر میں پیر کی صبح 5.5 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے جھٹکے سیاحتی شہر شرم الشیخ کے شمال مشرقی علاقوں سمیت دارالحکومت قاہرہ میں بھی محسوس کیے گئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔مصر کے قومی ادارہ برائے فلکیات و جیو فزیکل تحقیق کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 3 بجے آیا۔ زلزلے کا مرکز شرم الشیخ کے شمال مشرق میں زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جبکہ اس کا محل وقوع 30.19 درجۂ شمالی عرض البلد اور 32.61 درجۂ مشرقی طول البلد پر ریکارڈ کیا گیا۔
ادارے نے بتایا کہ مختلف علاقوں سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے نمائندوں نے بھی دارالحکومت قاہرہ میں ہلکے جھٹکے محسوس کیے، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔زلزلے کے فوراً بعد مصر کے وزیر صحت و آبادی خالد عبدالغفار نے ملک بھر میں ہنگامی طبی منصوبہ فوری طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے وزارت کے مرکزی کرائسس اور ایمرجنسی آپریشنز روم کو فعال کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔وزارت صحت نے ملک کے تمام سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت (کریٹیکل کیئر) شعبوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایمبولینس سروس اور فوری امدادی ٹیموں کو مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں صحت کی صورتحال معمول کے مطابق ہے اور زلزلے کے باعث کسی زخمی یا نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی دوران مصری ریڈ کریسنٹ نے بھی ان شہروں میں ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، اور واضح کیا کہ اب تک کسی ہلاکت یا املاک کو نقصان پہنچنے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ماہرین کے مطابق مصر خلیج سویز، بحیرہ احمر اور خلیج عقبہ کے قریب واقع فعال ٹیکٹونک زون کے نزدیک واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں وقتاً فوقتاً ہلکے یا درمیانی شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ روم کے خطے میں افریقی پلیٹ کے یوریشیائی پلیٹ کے نیچے سرکنے کے باعث شمالی مصر میں بھی زلزلہ خیز سرگرمیاں دیکھی جاتی ہیں، تاہم زیادہ تر زلزلوں سے بڑے پیمانے پر نقصان نہیں ہوتا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




