سورت کے آر ٹی آئی کارکن امت تیواری نے کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے کے والد بھگوان راؤ دیپکے کی آمدنی اور جائیداد پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بھگوان راؤ کو ماہانہ صرف 60 سے 65 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی تو پھر وہ اپنے بیٹے کی امریکہ میں تعلیم کا خرچ کیسے برداشت کر سکے۔
تین اداروں میں شکایت درج
امت تیواری نے الیکشن کمیشن آف انڈیا، سینٹرل بورڈ آف ان ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (CBIC) اور مہاراشٹر حکومت کے پاس شکایتیں درج کرائی ہیں۔ انہوں نے سی جے پی کی قانونی حیثیت، کپل سبل کی جانب سے دیے گئے ایک کروڑ روپے کے فنڈ اور بھگوان راؤ دیپکے کی جائیدادوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کپل سبل کے فنڈ پر بھی سوال
امت تیواری کا کہنا ہے کہ کپل سبل کی جانب سے دیے گئے ایک کروڑ روپے کے فنڈ پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سی بی آئی سی سے شکایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ رقم پر جی ایس ٹی وصول کیا جائے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن سے بھی شکایت کی گئی ہے کہ سی جے پی رجسٹریشن کے بغیر ایک سیاسی جماعت کی طرح کام کر رہی ہے۔
مہاراشٹر حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ
آر ٹی آئی کارکن نے مہاراشٹر حکومت سے بھگوان راؤ دیپکے کی جائیدادوں کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (MIDC) میں جونیئر انجینئر تھے اور ان کی آمدنی محدود تھی۔ ایسے میں ان کے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں (Disproportionate Assets) کا معاملہ بنتا ہے۔
چندے پر بھی اعتراض
تیواری نے الزام لگایا کہ سی جے پی رجسٹریشن کے بغیر چندہ وصول کر رہی ہے، جو قانون کے مطابق درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 29A کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے۔ اگر سی جے پی سیاسی جماعت کی طرح سرگرم ہے اور چندہ بھی جمع کر رہی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
تحریک کو بھی نشانہ بنایا
امت تیواری نے سی جے پی کی قیادت میں چلنے والی تحریک پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک نیٹ پیپر لیک کے اصل مسئلے سے ہٹ کر اب فنڈنگ اور جائیداد کے تنازع میں الجھ گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کوئی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

