تہران: ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود امریکی تنصیبات اور اثاثوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ایرانی فوج نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ جمعرات کے روز کیے گئے حملوں میں امریکی فوج کے بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر، نیویگیشن سسٹم، ایئر بیس کے دفاتر اور بیک اَپ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کویت اور اردن میں بھی حملوں کا دعویٰ
اس سے قبل دن میں ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا تھا کہ اس نے بدھ کی رات ایران پر امریکہ کے نئے حملوں کے جواب میں کویت کے علی السالم ایئر بیس اور اردن کے الازرق ایئر بیس میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے کیے ہیں۔ یہ تازہ جھڑپیں امریکہ اور ایران کے درمیان کئی روز کے وقفے کے بعد دوبارہ سامنے آئی ہیں۔
آبنائے ہرمز سے شروع ہونے والی کشیدگی
دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے سلسلے سے قبل امریکہ نے کئی مراحل میں ایرانی اہداف پر حملے کیے تھے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں اور ان کا مقصد ایران کی تجارتی بحری جہازوں کو دھمکانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔
بلغاریہ اور قبرص سے ایران کا مطالبہ
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعرات کو بلغاریہ اور قبرص پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی سرزمین پر موجود فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ بلغاریہ کی وزیر خارجہ ویلیسلاوا پیٹرووا سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران عراقچی نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے بیزمر ایئر بیس پر امریکی ٹینکر طیاروں کی تعیناتی بلغاریہ کی پارلیمانی منظوری، بین الاقوامی قانون اور دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی تیسرے ملک کے خلاف حملے کے لیے اپنی سرزمین فراہم کرنا بھی جارحیت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
بلغاریہ اور قبرص کا سفارت کاری پر زور
بلغاریہ کی وزیر خارجہ نے جواب میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف کسی جنگ میں شریک ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری جانب قبرص کے وزیر خارجہ قسطنطینوس کومبوس سے الگ گفتگو میں سید عباس عراقچی نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے قبرص میں موجود غیر ملکی فوجی اڈوں کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کومبوس نے کہا کہ قبرص نے برطانیہ سے رابطہ کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قبرص میں واقع برطانوی فوجی اڈوں کو کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


