نئی دہلی: ’کامن ویلتھ گیمز 2026‘ کا 23واں ایڈیشن 23 جولائی سے 2 اگست کے درمیان منعقد ہوگا۔ 12 سال بعد ایک بار پھر اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں ان کھیلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ گلاسگو دوسری مرتبہ کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرے گا۔ سال 2014 میں یہاں 14 مقامات پر 17 کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوئے تھے، جب کہ اس مرتبہ 8 میل کے کوریڈور میں واقع چار مقامات پر مجموعی طور پر 10 کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔ اس بار ایتھلیٹکس اور پیرا ایتھلیٹکس، سوئمنگ اور پیرا سوئمنگ، آرٹسٹک جمناسٹکس، ٹریک سائیکلنگ اور پیرا ٹریک سائیکلنگ، نیٹ بال، ویٹ لفٹنگ اور پیرا ویٹ لفٹنگ، باکسنگ، جوڈو، بالز اور پیرا بالز، 3×3 باسکٹ بال اور 3×3 وہیل چیئر باسکٹ بال شامل ہیں۔
کرکٹ، ہاکی اور بیڈمنٹن سمیت کئی کھیل باہر
برمنگھم میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز 2022 میں 20 کھیل شامل تھے، لیکن اس بار کھیلوں کی تعداد کم کر کے 10 کر دی گئی ہے۔ اس مرتبہ کرکٹ، ہاکی، بیڈمنٹن، کشتی، اسکواش، ردھمک جمناسٹکس، ٹیبل ٹینس، ڈائیونگ، رگبی سیونز، بیچ بال اور ماؤنٹین بائیکنگ کے مقابلے نہیں ہوں گے۔
چار مقامات پر ہوں گے 10 کھیلوں کے مقابلے
’گلاسگو انٹرنیشنل ایرینا‘ میں مجموعی طور پر 60 میڈل مقابلے ہوں گے، جن میں جمناسٹکس کے 14، ٹریک سائیکلنگ کے 18 اور پیرا ٹریک سائیکلنگ کے 8 مقابلے شامل ہیں۔ یہاں 24 سے 28 جولائی کے درمیان جمناسٹکس کے مقابلے ہوں گے۔ اسی کھیل کمپلیکس میں واقع ’سر کرس ہوئ ویلڈروم‘ میں 30 جولائی سے 2 اگست تک سائیکلنگ کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ ’اسکاٹش ایونٹ کیمپس‘ کے تین اہم حصوں میں مجموعی طور پر 6 کھیلوں کے 60 میڈل مقابلے ہوں گے۔ ’دی ہائیڈرو‘ نیٹ بال کے ایک مقابلے کی میزبانی کرے گا، جب کہ ’ایس ای سی آرمڈیلو‘ میں ویٹ لفٹنگ کے 16 اور پیرا پاور لفٹنگ کے 4 مقابلے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ’ایس ای سی سینٹر‘ میں 3×3 باسکٹ بال کے 2، باکسنگ کے 14، جوڈو کے 14، بالز کے 4، 3×3 وہیل چیئر باسکٹ بال کے 2 اور پیرا بالز کے 3 مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ ٹول کراس انٹرنیشنل سوئمنگ سینٹر میں سوئمنگ کے 42 اور پیرا سوئمنگ کے 14، یعنی مجموعی طور پر 56 میڈل مقابلے ہوں گے۔ وہیں اسکاٹس ٹاؤن اسٹیڈیم ایتھلیٹکس کے 43 اور پیرا ایتھلیٹکس کے 16، یعنی مجموعی طور پر 59 میڈل مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




