Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump: امریکی انتخابی نظام پر سوالات، پیٹر نوارو نے ٹرمپ کے دعوؤں کی حمایت کرتے ہوئے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ کو قرار دیا ضروری

ادھر وائٹ ہاؤس سے قوم سے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات کو فوری طور پر عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دستاویزات سے امریکی انتخابی نظام میں موجود حیران کن خامیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چین نے برسوں تک امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

نئی دہلی :امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق چین، ایران اور روس پر سنگین الزامات عائد کیے جانے کے بعد امریکی سیاست میں ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے۔ جہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈروں نے ٹرمپ کے دعوؤں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، وہیں صدر کے مشیر (کاؤنسلر) پیٹر نوارو نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے امریکی انتخابی نظام کو ان تمام خامیوں کا اصل ذمہ دار قرار دیا۔پیٹر نوارو نے ’سیو امریکہ ایکٹ‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے، جس کے تحت ووٹر شناختی کارڈ، شہریت کا ثبوت اور غیر حاضر ووٹنگ (ایبسنٹی بیلٹ) کے غلط استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی، تو امریکہ میں انتخابات زیادہ محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد بن جائیں گے۔انہوں نے کہا، “اس قانون کے نافذ ہونے سے نہ صرف انتخابی عمل میں دیانت داری بڑھے گی بلکہ امریکی عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا اور زیادہ لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے آگے آئیں گے۔”

ٹرمپ کی جانب سے انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے نوارو نے کہا کہ ان معلومات کو عوام کے سامنے لانے کا مقصد امریکی شہریوں کو انتخابی نظام کی کمزوریوں سے آگاہ کرنا تھا۔ ان کے مطابق یہ معلومات کبھی بھی خفیہ نہیں رکھی جانی چاہیے تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ دستاویزات اس لیے جاری کیں تاکہ امریکی عوام بہتر انداز میں سمجھ سکیں کہ انتخابی نظام میں کن خامیوں کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ اس تناظر میں ’سیو امریکہ ایکٹ‘ سب سے اہم اصلاحی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔”پیٹر نوارو نے کہا کہ اس معاملے کو صرف چین کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق چین نے حسب توقع تمام الزامات کی تردید کی ہے، لیکن اصل مسئلہ امریکہ کے اپنے انتخابی نظام کی ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ اندرونی عناصر چاہتے تھے کہ 2020 کے صدارتی انتخابات کا نتیجہ عوام کی توقعات کے برعکس آئے، جس کی وجہ سے انتخابی نظام کی کمزوریاں مزید نمایاں ہوئیں۔

ادھر وائٹ ہاؤس سے قوم سے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انتخابی سلامتی سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات کو فوری طور پر عوام کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان دستاویزات سے امریکی انتخابی نظام میں موجود حیران کن خامیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور یہ بھی سامنے آیا ہے کہ چین نے برسوں تک امریکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

ٹرمپ نے الزام لگایا کہ عوامی جمہوریہ چین نے امریکی انتخابی ڈیٹا میں تاریخ کی سب سے بڑی دراندازی کی اور غیر قانونی طریقے سے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹروں کا ریکارڈ حاصل کر لیا۔ ان کے مطابق اس ڈیٹا میں ووٹروں کے نام، پتے، فون نمبر، سیاسی وابستگی اور دیگر ذاتی معلومات شامل تھیں، جنہیں ووٹر رجسٹریشن اور دیگر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کو 2020 میں معلوم ہو گیا تھا کہ چین نے 18 ریاستوں کے کروڑوں ووٹروں کا ڈیٹا خریدا، چرایا یا ہیک کیا، لیکن یہ معلومات نہ تو اس وقت کے صدر کو فراہم کی گئیں اور نہ ہی کانگریس کو آگاہ کیا گیا۔ ٹرمپ کے ان دعوؤں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اور انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ دوسری جانب چین بھی ان الزامات کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ اس کے باوجود انتخابی شفافیت، ووٹنگ کے نظام کی سلامتی اور ’سیو امریکہ ایکٹ‘ پر بحث نے امریکہ کی سیاسی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read