Bharat Express DD Free Dish

Sonam Wangchuk Hunger Strike: سونم وانگچک معاملہ پر پریانکا چترویدی نے حکومت کو نشانہ بنایا، کہا- عوام کبھی معاف نہیں کرے گی

سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور سونم وانگچک کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔

نئی دہلی: ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال کے دوران صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد سیاسی ردعمل میں شدت آ گئی ہے۔ شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کی لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) تینوں کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوام اس واقعے کو آسانی سے فراموش نہیں کریں گے۔پریانکا چترویدی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی حکومت سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں فکر مند تھی تو کسی مرکزی وزیر کو مذاکرات کے لیے بھیجنا چاہیے تھا، لیکن اس کے بجائے دہلی پولیس کو کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ حکومت کا یہ رویہ عوام کے ذہنوں میں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے سونم وانگچک کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ پریانکا نے مزید لکھا کہ ممکن ہے انہیں اس بیان پر تنقید کا سامنا کرنا پڑے، لیکن وہ پھر بھی یہ کہیں گی کہ سی جے پی اپنی سیاسی خواہشات کے لیے سونم وانگچک کو “قربانی کا بکرا” نہیں بنا سکتی۔واضح رہے کہ سونم وانگچک گزشتہ 28 جون سے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ طبیعت بگڑنے کے بعد دہلی پولیس نے انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور طبی ماہرین کے مشورے کے مطابق کی گئی۔ تاہم سونم وانگچک یا ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور سونم وانگچک کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوگا اور اس میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔قابل ذکر ہے کہ سی جے پی نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل سونم وانگچک نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے عوام سے اس مارچ میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی۔ وانگچک کی صحت، ان کی بھوک ہڑتال اور حکومت کی کارروائی کو لے کر سیاسی بحث مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read