نئی دہلی: ملک میں قومی ترانے اور ترنگے کی توہین کے خلاف پہلے ہی سخت قوانین موجود ہیں، لیکن اب قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ کی بے حرمتی پر بھی سخت قانونی کارروائی کی راہ ہموار ہونے جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں ایک نیا ترمیمی بل پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے منظور ہونے کے بعد ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین یا اس کی ادائیگی اور دھن میں رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم قرار دیا جائے گا۔
امیت شاہ پیش کریں گے ترمیمی بل
ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مانسون اجلاس کے دوران ’’قومی احترام کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل، 2026‘‘ پیش کر سکتے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس بل کو سب سے پہلے راجیہ سبھا میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین کا مرتکب پایا گیا تو اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ یہی سزا اس وقت قومی ترانے ’جن گن من‘ کی توہین کے معاملے میں بھی نافذ ہے۔
سرکاری ہدایات کو ملے گی قانونی حیثیت
مرکزی حکومت اس سے قبل ریاستوں کو ہدایات جاری کر چکی ہے کہ سرکاری تقریبات میں ’’وندے ماترم‘‘ گانا یا بجانا لازمی بنایا جائے۔ اب حکومت ان انتظامی ہدایات کو باقاعدہ قانونی شکل دینے جا رہی ہے تاکہ قومی نغمے کے احترام کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔ 20 جولائی سے شروع ہو کر 13 اگست تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس مجوزہ بل کے علاوہ انکم ٹیکس ترمیمی بل، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافے سے متعلق بل سمیت کئی اہم قانون سازی کی تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس بل کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس مطلوبہ عددی اکثریت موجود ہے، اس لیے اس کے منظور ہونے میں کسی بڑی رکاوٹ کی توقع نہیں کی جا رہی۔ بل کے قانون بن جانے کے بعد ’’وندے ماترم‘‘ کو بھی قومی پرچم اور قومی ترانے کی طرح قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


