Bharat Express DD Free Dish

NFYM Yuva Samvad: نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹس کا جے پور میں ’یووا سمواد‘، راجستھان یوتھ امپلائمنٹ رپورٹ اور چارٹر آف ڈیمانڈس جاری کرنے کا اعلان

’یووا سمواد‘ کو روایتی یک طرفہ تقاریر کے بجائے ایک باہمی اور شراکتی مکالمے کی شکل دی گئی، جس میں طلبہ، نوجوانوں، ماہرین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے کھل کر سوالات کیے، اپنے تجربات بیان کیے اور نوجوانوں کے مسائل کے عملی حل پر تبادلۂ خیال کیا۔

جے پور: نیشنل فیڈریشن آف یوتھ موومنٹس (این ایف وائی ایم) نے ہفتہ کے روز راجستھان انٹرنیشنل سینٹر (آر آئی سی)، جے پور میں ’یووا سمواد‘ کا انعقاد کیا، جس میں طلبہ، نوجوان قائدین، سماجی کارکنان، وکلا، اساتذہ، سینئر صحافیوں اور مختلف طلبہ و نوجوان تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں راجستھان کے نوجوانوں کو درپیش مسائل، خصوصاً روزگار، تعلیم، ہنرمندی اور ذریعۂ معاش کے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ’یووا سمواد‘ کو روایتی یک طرفہ تقاریر کے بجائے ایک باہمی اور شراکتی مکالمے کی شکل دی گئی، جس میں طلبہ، نوجوانوں، ماہرین، صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے کھل کر سوالات کیے، اپنے تجربات بیان کیے اور نوجوانوں کے مسائل کے عملی حل پر تبادلۂ خیال کیا۔ پروگرام میں صرف مسائل کی نشاندہی ہی نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی زیر بحث آیا۔

بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ: مسیح الزماں انصاری

این ایف وائی ایم کے چیئرمین مسیح الزماں انصاری نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تنظیم کا بنیادی مقصد طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو تحقیق، حقائق اور شواہد کی بنیاد پر اجاگر کرنا اور جمہوری ذرائع سے ان کے پائیدار حل کی کوشش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں بے روزگاری نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے، جس پر مستقل پالیسی توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ایسا پلیٹ فارم ملنا چاہیے جہاں وہ براہ راست اپنی آواز پالیسی سازوں تک پہنچاسکیں۔

ماہرین اور نوجوانوں کا مختلف موضوعات پر اظہارخیال

پروگرام میں نوین نارائن، اوپیندر شنکر، ہیمنت موہن پوریا، پون دیو، رمن یادو، شعیب شان، کمل جی، محمد معین، موصوف احمد، انور کٹھیت، شعیب شان اور ڈاکٹر رحیم خان سمیت متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور نوجوانوں کے روزگار، تعلیم، ہنرمندی اور بااختیار بنانے سے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔ ریاست کے مختلف کالجوں اور جامعات کے طلبہ نے بھی روزگار، تعلیمی مواقع، کیریئر گائیڈنس، صنعت کاری، بھرتی کے عمل میں تاخیر اور پالیسی سازی میں نوجوانوں کی مؤثر شمولیت جیسے موضوعات پر اپنے تجربات اور تجاویز پیش کیں۔

خانہ بدوش برادریوں کے مسائل بھی زیر بحث

اجلاس میں راجستھان کی خانہ بدوش برادریوں، خصوصاً ان کے نوجوانوں کو درپیش مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ نوین نارائن نے کرمنل ٹرائبز ایکٹ 1871 اور اس کے 1952 میں خاتمے کی تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ نوآبادیاتی دور کے اس قانون کے اثرات آج بھی ان برادریوں پر موجود ہیں، جس کے نتیجے میں وہ امتیازی سلوک، غربت، سماجی محرومی اور بنیادی شہری حقوق سے محرومی جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ دیپیش، راکیش اور ہیمنت نے میراثی، بنجارہ، کنجر اور کالبیلیا جیسی برادریوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال پر تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس پر شرکاء نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

مختلف تنظیموں کے نمائندوں کی آرا

راجستھان یوتھ فورم کے انور کٹھیت نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے حقیقی مسائل کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کے مکالمے مسلسل منعقد ہونے چاہئیں۔ ایس آئی او کے نمائندے شعیب شان نے طلبہ کو درپیش موجودہ چیلنجز پر روشنی ڈالی اور ان کے حل کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات پر زور دیا۔ سماجی کارکن مصوف احمد نے کہا کہ اس پروگرام نے راجستھان کے نوجوانوں کے مسائل پر بامعنی مکالمے کا ماحول پیدا کیا ہے، جس سے نوجوانوں میں جمہوری شرکت اور مثبت گفتگو کے رجحان کو فروغ ملے گا۔

راجستھان یوتھ امپلائمنٹ رپورٹ جلد جاری ہوگی

پروگرام کے اختتام پر مسیح الزماں انصاری نے اعلان کیا کہ این ایف وائی ایم جلد ہی راجستھان یوتھ امپلائمنٹ رپورٹ جاری کرے گی، جس میں روزگار، ہنرمندی، تعلیم اور نوجوانوں سے متعلق دیگر اہم مسائل کا جامع جائزہ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں، ماہرین اور سول سوسائٹی سے حاصل ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر ایک چارٹر آف ڈیمانڈس بھی تیار کیا جائے گا، جسے متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اس میں بروقت تقرریوں، روزگار کے مواقع میں اضافے، ہنرمندی کے فروغ اور نوجوانوں پر مبنی پالیسیوں کے مؤثر نفاذ سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read