Bharat Express DD Free Dish

Fifa world cup 2026: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کھلاڑیوں پر کڑی نظر، ٹورنامنٹ میں نافذ ہوں گے 8 بڑے نئے قوانین

فیفا ورلڈ کپ 2026 صرف 48 ٹیموں کی شرکت اور تین ممالک — امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو — کی مشترکہ میزبانی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ نئے قوانین کے باعث بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

 فیفا نے کھلاڑیوں کی بدانتظامی، وقت ضائع کرنے اور متنازع فیصلوں کو کم کرنے کے لیے 8 اہم تبدیلیاں نافذ کی ہیں۔

کپتان کے علاوہ کوئی ریفری سے بحث نہیں کر سکے گا

نئے قوانین کے تحت صرف ٹیم کا کپتان ہی ریفری سے بات کر سکے گا۔ دیگر کھلاڑی اگر فیصلے پر احتجاج یا بحث کرتے نظر آئے تو انہیں فوری وارننگ یا کارڈ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وقت ضائع کرنے پر گول کیپرز کے خلاف سخت کارروائی

اگر گول کیپر مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک گیند اپنے قبضے میں رکھے گا تو مخالف ٹیم کو خصوصی فائدہ دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد میچ کی رفتار برقرار رکھنا ہے۔

وی اے آر (VAR) میں زیادہ شفافیت

فیفا وی اے آر فیصلوں کو مزید شفاف بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرے گا تاکہ تماشائیوں اور کھلاڑیوں کو فیصلوں کی بہتر وضاحت مل سکے۔

سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ ٹیکنالوجی

آف سائیڈ فیصلوں کو تیز اور زیادہ درست بنانے کے لیے جدید سیمی آٹومیٹڈ سسٹم استعمال کیا جائے گا، جس سے متنازع فیصلوں میں کمی متوقع ہے۔

اضافی وقت کے درست حساب پر زور

میچ کے دوران ضائع ہونے والے وقت کا زیادہ درست اندازہ لگا کر اضافی وقت دیا جائے گا تاکہ وقت ضائع کرنے کی حکمت عملی کو روکا جا سکے۔

ڈسپلن پر خصوصی نگرانی

کھلاڑیوں کے رویے، مخالفین سے بدتمیزی اور غیر کھیلوں والی حرکات پر ریفریز کو مزید اختیارات دیے گئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ

فیفا مختلف جدید تکنیکی نظاموں کے ذریعے میچ آفیشلز کو فوری اور درست فیصلے لینے میں مدد فراہم کرے گا۔

48 ٹیموں کا نیا فارمیٹ

ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس کے باعث مقابلوں کی تعداد اور ٹورنامنٹ کا دورانیہ بھی بڑھ جائے گا۔ نئے قوانین کا مقصد اتنے بڑے ایونٹ کو زیادہ منظم، شفاف اور دلچسپ بنانا ہے۔ فیفا کا ماننا ہے کہ ان تبدیلیوں سے کھیل کا معیار بہتر ہوگا، تنازعات کم ہوں گے اور شائقین کو زیادہ منصفانہ اور دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read