نئی دہلی : ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، پرانے کرایہ نظام اور ایپ پر مبنی کمپنیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے خلاف دہلی-این سی آر میں آٹو، ٹیکسی، ٹرانسپورٹ گاڑیوں اور ایپ بیسڈ کیب ڈرائیوروں نے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس ہڑتال کے باعث دہلی اور اطراف کے علاقوں میں عوام کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس اور دہلی چالک شکتی یونین نے 21 سے 23 مئی تک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی سی این جی، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے ان کی معاشی حالت خراب کر دی ہے، جبکہ کرایوں میں مناسب اضافہ نہ ہونے سے ان کے لیے گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک کیب ڈرائیور نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی این جی اور تیل کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ غریب آدمی کے لیے گزارا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری رات گاڑی چلانے کے باوجود 500 روپے بھی بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ڈرائیور نے بتایا کہ ایندھن کے اخراجات، گاڑی کی قسطیں اور دیگر خرچ نکالنے کے بعد 12 گھنٹے مسلسل کام کرنے پر صرف 500 سے 600 روپے ہی بچ پاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایپ بیسڈ کمپنیوں کے کمیشن اور پرانے کرایہ نظام نے بھی ڈرائیوروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ 19 مئی کو پٹرول کی قیمت میں 86 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 15 مئی کو بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر جبکہ سی این جی کی قیمت میں 2 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی اور تیل کمپنیوں کو درآمد شدہ خام تیل کی بڑھتی لاگت کا بوجھ برداشت کرنے کی ہدایت دے کر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 24 ہزار 500 کروڑ روپے کے نقصان کو برداشت کرتے ہوئے قیمتوں کو قابو میں رکھا۔
ایک سینئر افسر کے مطابق حکومت کو پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی وجہ سے تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کے ریونیو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ تیل کمپنیوں کو پٹرول، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے باعث بھاری مالی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔ہڑتال کے دوران دہلی-این سی آر میں ٹرانسپورٹ خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


