دنیا ابھی کورونا وبا کے اثرات سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ ایک اور جان لیوا وائرس نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ افریقہ کے جمہوریہ کانگو (DRC) اور پڑوسی ملک یوگانڈا میں ایبولا وائرس کی ایک نایاب اور خطرناک قسم سامنے آئی ہے۔ اس وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے اسے ’بین الاقوامی تشویش کی حامل صحت ایمرجنسی‘ (PHEIC) یعنی گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔
کانگو کے صوبہ اِتوری سے شروع ہونے والا یہ وبائی پھیلاؤ اب تیزی سے رہائشی علاقوں اور شہروں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 336 سے زائد مشتبہ معاملات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ 87 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس بار کانگو کے دارالحکومت کنشاسا اور یوگانڈا کی دارالحکومت کمپالا میں بھی ایبولا کے مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ یہ وائرس کافی عرصے سے خاموشی کے ساتھ لوگوں کے درمیان پھیل رہا تھا، لیکن بروقت اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔
بُنڈی بُگیو: ایبولا وائرس کی نئی خطرناک قسم
اس بار پھیلنے والے وائرس کو سمجھنے کے لیے اس کے اسٹرین ’بُنڈی بُگیو‘ (Bundibugyo) کو جاننا ضروری ہے:
بُنڈی بُگیو ایبولا وائرس کی ایک نایاب اور نہایت مہلک قسم ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں ہے۔
یہ وائرس جسم میں داخل ہوتے ہی اہم اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کی شرحِ اموات 50 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
اس اسٹرین کی تشخیص کافی مشکل ہوتی ہے، کیونکہ عام فیلڈ ٹیسٹ میں اکثر یہ وائرس پکڑ میں نہیں آتا۔
اس کی ابتدائی علامات عام فلو، ملیریا یا ٹائیفائیڈ جیسی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ابتدا میں اس کی شناخت کرنا بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
یہ وائرس متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں، جیسے خون، تھوک یا پسینے کے براہِ راست رابطے سے تیزی سے پھیلتا ہے۔
کیا بھارت میں بھی پھیل سکتا ہے بُنڈی بُگیو؟
کانگو اور یوگانڈا میں پھیلی افرا تفری کے درمیان ایک بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا بُنڈی بُگیو ایبولا وائرس بھارت تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ ماہرینِ صحت کے مطابق بھارت کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، لیکن انتہائی محتاط رہنا ضروری ہے۔ایبولا وائرس کورونا کی طرح ہوا کے ذریعے (Airborne) نہیں پھیلتا۔ یعنی صرف کسی کے کھانسنے یا چھینکنے سے یہ بیماری منتقل نہیں ہوتی۔ یہ صرف متاثرہ مریض کے خون، قے یا دیگر جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔
بین الاقوامی سفر کرنے والوں سے محتاط رہنے کی ضرورت
بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بین الاقوامی فضائی سفر کے ذریعے آ سکتا ہے۔ اگر کانگو یا یوگانڈا کے متاثرہ علاقوں سے کوئی متاثرہ شخص بھارت آتا ہے تو وائرس کے داخل ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم، بھارتی وزارتِ صحت اور ہوائی اڈہ حکام کے پاس ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سخت پروٹوکول موجود ہیں۔متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی تھرمل اسکریننگ کی جاتی ہے اور مشتبہ علامات ظاہر ہونے پر انہیں فوری طور پر آئسولیٹ کر دیا جاتا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (NIV) جیسی بھارتی ادارے نئے وائرسوں کی جانچ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے فی الحال بھارت میں عوام کے لیے اس وائرس سے کوئی براہِ راست خطرہ نہیں سمجھا جا رہا۔
گزشتہ دو دہائیوں میں پھیلنے والی خطرناک وبائیں
دنیا گزشتہ بیس برسوں میں کئی جان لیوا وائرسوں کا سامنا کر چکی ہے۔ نیپاہ وائرس سے لے کر ایبولا اور سارس جیسے وائرسوں نے وقتاً فوقتاً مختلف ممالک میں تباہی مچائی ہے۔ نیپاہ وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا اور مؤثر علاج نہ ہونے کی وجہ سے کیرالہ سمیت کئی علاقوں میں خوف کی علامت بن گیا تھا۔
صدی کی سب سے خوفناک وبا: کووڈ-19
جب بھی کسی عالمی وبا کا ذکر ہوتا ہے تو کورونا وائرس (COVID-19) کی تلخ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ کورونا کو گزشتہ ایک صدی کی سب سے خطرناک وبا مانا جاتا ہے۔ اس نے نہ صرف دنیا کے طبی نظام کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ کروڑوں لوگوں کو مہینوں تک گھروں میں محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔
کورونا وائرس اور ایبولا کے درمیان سب سے بڑا فرق ان کے پھیلنے کے طریقے میں ہے۔ کورونا ہوا کے ذریعے تیزی سے پھیلتا تھا، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد متاثر ہوئے۔ دوسری طرف ایبولا ہوا سے نہیں بلکہ براہِ راست رابطے سے پھیلتا ہے، لیکن اس کی شرحِ اموات کورونا کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
بھارت میں کورونا سے کتنی اموات ہوئیں؟
بھارت میں کورونا وائرس نے لاکھوں زندگیاں نگل لی تھیں۔ حکومت ہند اور عالمی ادارۂ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا کے دوران بھارت میں تقریباً 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، اگرچہ بعض اداروں کے اندازے اس سے بھی زیادہ ہیں۔
خاص طور پر کورونا کی دوسری لہر (اپریل-مئی 2021) کے دوران ملک کو آکسیجن اور اسپتالوں میں بستروں کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی تجربے کے بعد بھارت اپنی صحت سے متعلق تیاریوں اور نگرانی کے نظام کے سلسلے میں پہلے سے کہیں زیادہ محتاط ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
