Bharat Express DD Free Dish

Mumbai Watermelon Deaths: جسم میں ’بیکٹیریل انفیکشن‘ نہیں… ممبئی میں تربوز کھانے سے 4 افراد کی موت معاملے میں نیا موڑ، کیا چاروں کے ساتھ اسپتال میں کچھ ہوا؟

تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اگر رپورٹ میں کسی زہریلے مادے کی موجودگی سامنے نہیں آتی تو پھر علاج کے دوران لاپروائی یا کسی دوسری طبی وجہ کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے اسپتال میں ہونے والے علاج اور طبی عملے کی کارروائیوں کی بھی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔

ممبئی کے علاقے پائیدھونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت کا معاملہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ متاثرہ افراد کی موت تربوز کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کے سبب ہوئی، تاہم اب تک سامنے آنے والی طبی اور پولیس تحقیقات نے اس نظریے کو کمزور کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سرکاری اسپتال کی ابتدائی رپورٹ میں لاشوں میں کسی قسم کے بیکٹیریل انفیکشن یا زہریلے اثرات کے شواہد نہیں ملے ہیں، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

پولیس اب فارنسک سائنس لیبارٹری یعنی ایف ایس ایل کی حتمی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے، جس کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ اگر رپورٹ میں کسی زہریلے مادے کی موجودگی سامنے نہیں آتی تو پھر علاج کے دوران لاپروائی یا کسی دوسری طبی وجہ کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے گا۔ اسی وجہ سے اسپتال میں ہونے والے علاج اور طبی عملے کی کارروائیوں کی بھی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ مرنے والوں میں 35 سالہ نسرین، 16 سالہ عائشہ، 35 سالہ عبداللہ اور 12 سالہ زینب شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو 26 اپریل کو طبیعت بگڑنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔ اہل خانہ نے کسی سازش یا دشمنی کے امکان سے انکار کیا ہے، تاہم پولیس ہر پہلو سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ذرائع کے مطابق جے جے اسپتال میں چاروں اموات کا ڈیتھ آڈٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس عمل کے تحت یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا مریضوں کے علاج میں تاخیر، غلط دوا یا طبی لاپروائی تو نہیں ہوئی۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں کا علاج طے شدہ طبی اصولوں کے مطابق کیا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے ہر ممکن کوشش کی۔ ادھر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یعنی ایف ڈی اے کی ٹیم بھی اس معاملے کی الگ سے جانچ کر رہی ہے۔ ماہرین خوراک اور طبی ماہرین کی رائے بھی لی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کھانے پینے کی کسی چیز سے متاثر ہو کر یہ اموات ہوئیں یا نہیں۔ ابتدائی طبی رپورٹ میں ڈاکٹروں نے فوڈ پوائزننگ کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، تاہم حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاندان کی گزشتہ چند دنوں کی سرگرمیوں اور کھانے پینے کی عادات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ مقامی افراد کے مطابق خاندان کے تمام افراد اچانک بیمار ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو لے کر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ حکام نے جلد رپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read