نئی دہلی :آج کے دور میں پیٹ سے جڑی شکایات کو عام سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن بار بار ہونے والی گیس، بدہضمی یا پیٹ پھولنے کی شکایت کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف نظامِ ہاضمہ ہی نہیں بلکہ جگر کی خرابی کی علامت بھی ہو سکتا ہے، اس لیے بروقت توجہ دینا ضروری ہے۔
اگر کھانا کھانے کے بعد بار بار گیس بنے، پیٹ پھولنے لگے یا بھاری پن محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ نہ سمجھیں۔ عام طور پر لوگ اسے صرف معدے کی خرابی سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ جگر اور نظامِ ہاضمہ دونوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اگر جگر صحیح طریقے سے کام نہ کرے تو کھانا اچھی طرح ہضم نہیں ہو پاتا، جس کے باعث گیس، بدہضمی اور پیٹ میں بھاری پن جیسی شکایات بار بار ہونے لگتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر ہاضمے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جگر روزانہ ایک خاص مقدار میں صفرا (بائل) تیار کرتا ہے جو چکنائی کو توڑنے اور خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر جگر کم یا زیادہ مقدار میں صفرا بنائے تو اس کا براہ راست اثر ہاضمے پر پڑتا ہے۔ جگر کی کارکردگی متاثر ہونے پر بار بار گیس بننا، پیٹ پھولنا، ہلکا درد، کھانے کا صحیح طرح ہضم نہ ہونا اور بھاری پن جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق دیر رات کھانا، جنک فوڈ کا زیادہ استعمال اور تلی ہوئی اشیاء کا مسلسل استعمال جگر کو کمزور بنا دیتا ہے، جس سے ہاضمہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے خوراک اور طرزِ زندگی میں بہتری لائی جائے۔آیوروید میں جگر کو صاف اور مضبوط بنانے کے کئی طریقے بتائے گئے ہیں۔ صبح خالی پیٹ گلوئے کا رس پینا مفید مانا جاتا ہے، جو نہ صرف قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے، بلکہ جگر کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتا ہے۔اس کے علاوہ خوراک میں فائبر کی مقدار بڑھانا بھی ضروری ہے۔ فائبر جگر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ چینی کا استعمال کم کیا جائے کیونکہ ریفائنڈ چینی جگر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر بار بار گیس، بدہضمی یا پیٹ پھولنے کی شکایت ہو تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت احتیاط ہی بہتر صحت کی ضمانت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




