Bharat Express DD Free Dish

The Kerala Story: کانگریس دی کیرالہ اسٹوری پر پابندی لگانا چاہتی ہے،سی ایم وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما  نےکہا – پی ایف آئی سےدوستی

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا، ‘دی کیرالہ اسٹوری کی شکل میں ایک نئی فلم آئی ہے، جس میں بہت سی چیزوں کا خلاصہ کیا  گیا ہے

کانگریس دی کیرالہ اسٹوری پر پابندی لگانا چاہتی ہے،سی ایم وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما  نےکہا - پی ایف آئی سےدوستی

The Kerala Story: بالی ووڈ فلم ‘دی کیرالہ سٹوری’ جمعہ کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگئی ہے ۔ اس فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیرالہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد اسلامک اسٹیٹ میں شامل ہوئی ہے۔ دی کیرالہ اسٹوری میں کیے گئے اس دعوے کی وجہ سے کافی تنازعہ  بنا ہوا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ  اس کے ساتھ ہی اب آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اس فلم کو کرناٹک میں انتخابی ایشو  بنا دیا ہے۔ ہمنت بسوا سرما نے کرناٹک میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کانگریس کو اس کے منشور کو لے کر گھیر لیا ہے۔

بی بی سی کی دستاویزی فلم کی حمایت کی

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا، ‘دی کیرالہ اسٹوری کی شکل میں ایک نئی فلم آئی ہے، جس میں بہت سی چیزوں کا خلاصہ کیا  گیا ہے۔ بی بی سی نے جھوٹے دعوؤں پر مودی جی پر فلم بنائی تو کانگریس نے اس کی حمایت کی۔ وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کا مزید کہنا ہے کہ آج وہی کانگریس کیرالہ اسٹوری پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے کہا کہ کانگریس کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی، کیونکہ راہل گاندھی کے پاس کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

دی کیرالہ کہانی پر سیاسی تنازعہ

کیرالہ  اسٹوری جمعہ کو  ریلیز ہوچکی ہے ۔ اس فلم نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے ،کیونکہ بی جے پی کارکنوں کی طرف سے کئی علاقوں میں خصوصی نمائش (اسکرینگ) کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ریلیز سے قبل فلم پر تنقید کی اور اسے سنگھ کا پروپیگنڈہ قرار دیا۔ جب کہ کانگریس نے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے بھی فلم کی ریلیز پر روک لگانے سے انکار کردیا اور کہا کہ ٹریلر میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔

 

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read