بہار کے سیتامڑھی میں بدعنوانی کے خلاف ایک ایسی کارروائی ہوئی ہے جس نے پورے انتظامی محکمے میں ہلچل مچا دی ہے۔ کورٹ کمپلیکس کے بالکل باہر، جہاں انصاف کی امید کی جاتی ہے، وہیں نگرانی محکمہ کی ٹیم نے ایک رشوت خور مکھیا کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مکھیا کسی بڑے گھوٹالے میں نہیں بلکہ حکومت کی نل-جل اسکیم کے تحت ایک غریب ملازم کی واجب الادا رقم جاری کرنے کے بدلے 16 ہزار روپے رشوت لے رہے تھے۔ جیسے ہی نوٹوں کی گڈی مکھیا کے ہاتھ میں آئی، سادہ لباس میں موجود نگرانی ٹیم نے انہیں فوراً دبوچ لیا۔ اس کارروائی کے بعد کورٹ کمپلیکس کے باہر افرا تفری مچ گئی اور لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ اچانک کیا ہو گیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ پورا معاملہ بدعنوانی اور ایک وارڈ ممبر کی بے بسی سے جڑا ہوا ہے۔ متاثرہ شخص اجے کمار پاسوان ایک پمپ آپریٹر اور وارڈ ممبر ہیں۔ سرکاری قواعد کے مطابق نل-جل اسکیم کے تحت پمپ چلانے کے لیے انہیں ہر ماہ 2000 روپے ملنے تھے۔ مگر الزام ہے کہ علاقے کے مکھیا نے اجے سمیت کئی دیگر وارڈ ممبروں کی تقریباً دو سال کی ادائیگی روک رکھی تھی۔
اپنی محنت کی کمائی حاصل کرنے کے لیے اجے کمار پاسوان کئی مہینوں سے مکھیا کے چکر لگا رہے تھے، لیکن مکھیا کا دل نہیں پگھلا۔ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ اگر رکی ہوئی رقم چاہیے تو بدلے میں 16 ہزار روپے بطور نذرانہ یعنی رشوت دینی ہوگی۔ یعنی ایک طرف غریب کا حق مارا جا رہا تھا اور دوسری طرف اسی حق کو دینے کے لیے موٹی رقم مانگی جا رہی تھی۔
ڈی ایم سے فریاد بھی بے اثر رہی
حیرت کی بات یہ ہے کہ اجے کمار پاسوان نے اس بدعنوانی کے خلاف ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے سب سے پہلے سیتامڑھی کے ضلع مجسٹریٹ (DM) اور پنچایتی راج افسر کو تحریری شکایت دی۔ انہیں امید تھی کہ اعلیٰ افسران ان کی مدد کریں گے، لیکن نظام کی سستی کے باعث کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ جب سرکاری دفاتر سے انصاف نہیں ملا تو اجے نے پٹنہ میں واقع نگرانی محکمہ سے رابطہ کیا۔
کورٹ کمپلیکس کے باہر گرفتار
طے شدہ منصوبے کے مطابق اجے کمار پاسوان رشوت کی رقم لے کر پہنچے۔ جیسے ہی انہوں نے کورٹ کمپلیکس کے باہر مکھیا کو 16 ہزار روپے دیے، وہاں پہلے سے موجود نگرانی ٹیم فوراً حرکت میں آئی اور مکھیا کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کے بعد مکھیا کے ہوش اڑ گئے۔ کورٹ جیسے مقام پر اس طرح کی کارروائی دیکھ کر وہاں موجود لوگ بھی حیران رہ گئے۔
فی الحال نگرانی محکمہ کی ٹیم ملزم مکھیا کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اگر عام آدمی ہمت کرے اور صحیح جگہ شکایت کرے تو بدعنوان افسران اور نمائندوں کے خلاف کارروائی ممکن ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تحقیقات میں اور کتنے بااثر افراد کے نام سامنے آتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


