Bharat Express DD Free Dish

ICC T20 World Cup: ’’ٹرافی کو لے کر صرف ہنومان مندر ہی کیوں گئے…‘‘؟ کیرتی آزاد کے بعد کانگریس لیڈر دلوئی نے اٹھائے سوال

کیرتی آزاد نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرافی کو کسی عبادت گاہ میں لے جانا تھا تو پھر اسے مسجد، چرچ یا گردوارے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ محمد سراج کبھی ٹرافی کو مسجد نہیں لے گئے اور نہ ہی سنجو سیمسن اسے چرچ لے کر گئے۔

ممبئی: بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور کپتان سوریہ کمار یادو کی جانب سے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ٹرافی کو ہنومان مندر لے جانے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد کے بعد اب کانگریس کے سینئر لیڈر حسین دلوئی نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ٹرافی پورے ملک کی ہے: حسین دلوئی
آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے حسین دلوئی نے کہا کہ بھارت ایک کثیر مذہبی ملک ہے اور یہاں تمام مذاہب کے لوگوں کا برابر حق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹرافی پورے ملک کی ہے، یہ کسی ایک کھلاڑی کی نہیں ہے۔ اسے لے کر صرف مندر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھیل اور ثقافتی پروگراموں کو سیاسی یا مذہبی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”

کیرتی آزاد نے بھی اٹھایا تھا سوال
دلوئی نے کہا کہ کیرتی آزاد نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹیم ٹرافی لے کر ہنومان مندر جا سکتی ہے تو پھر اسے مسجد، چرچ یا گردوارے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ ان کے مطابق بھارتی ٹیم پورے ملک کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ کسی ایک مذہب یا فرد کی۔

سوشل میڈیا پر بھی تیز بحث
اس سے پہلے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سوریہ کمار یادو اور گوتم گمبھیر کے ہنومان مندر جانے پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب 1983 میں کپل دیو کی قیادت میں بھارت نے ورلڈ کپ جیتا تھا تو ٹیم میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سبھی مذاہب کے کھلاڑی شامل تھے اور اس وقت ٹرافی سیدھے بھارت لائی گئی تھی۔

مختلف عبادت گاہوں کا ذکر
کیرتی آزاد نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرافی کو کسی عبادت گاہ میں لے جانا تھا تو پھر اسے مسجد، چرچ یا گردوارے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ محمد سراج کبھی ٹرافی کو مسجد نہیں لے گئے اور نہ ہی سنجو سیمسن اسے چرچ لے کر گئے۔

اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد پر ردعمل
اس دوران حسین دلوئی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف پیش کیے گئے عدم اعتماد کی تجویز پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوم برلا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جس کرسی پر وہ بیٹھے ہیں وہ کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ پورے ایوان کی نمائندگی کرتی ہے۔

دلوئی نے کیا استعفیٰ دینے کا مطالبہ
دلوئی کے مطابق اسپیکر کو غیر جانبدار رہنا چاہیے اور اپوزیشن کی بات کو بھی سنجیدگی سے سننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کا رویہ اوم برلا کا رہا ہے اسی وجہ سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان میں تھوڑی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے تو انہیں خود ہی عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔