نئی دہلی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے درمیان بھارتی حکومت نے گھریلو صارفین کو راحت دینے کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کی آئل ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس (LPG) کی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ گھریلو رسوئی گیس کی سپلائی میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کی وجہ سے درآمدات متاثر بھی ہوں تو بھی ملک میں گھریلو گیس کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
بھارت میں ایل پی جی کی کھپت اور درآمدات
بھارت دنیا میں ایل پی جی درآمد کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ گزشتہ سال ملک میں تقریباً 33.15 ملین میٹرک ٹن رسوئی گیس کی کھپت ریکارڈ کی گئی تھی۔ ایل پی جی دراصل پروپین اور بیوٹین گیسوں کا مرکب ہوتی ہے۔بھارت کی مجموعی ضرورت کا تقریباً دو تہائی حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے اور ان درآمدات میں سے تقریباً 85 سے 90 فیصد سپلائی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں کسی بھی کشیدگی یا جنگ کے اثرات براہِ راست توانائی کی سپلائی پر پڑ سکتے ہیں۔
ریفائنریوں کو پیداوار بڑھانے کی ہدایت
حکومت کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ تمام آئل ریفائنریاں اپنے پاس موجود پروپین اور بیوٹین کا زیادہ سے زیادہ استعمال ایل پی جی تیار کرنے کے لیے کریں۔ اس کے علاوہ گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پروپین، بیوٹین اور ایل پی جی کی سپلائی سرکاری ریفائنریوں کو فراہم کریں تاکہ گھریلو صارفین تک گیس کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔حکومت کے مطابق اس اضافی سپلائی کو بنیادی طور پر سرکاری تیل کمپنیوں یعنی Indian Oil Corporation، Hindustan Petroleum Corporation اور Bharat Petroleum Corporation کے ذریعے گھریلو صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 33.2 کروڑ فعال ایل پی جی صارفین موجود ہیں۔
امریکہ سے بھی ایل پی جی درآمد شروع
اسی دوران بھارت نے متبادل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ سے بھی ایل پی جی کی درآمد شروع کر دی ہے۔ بھارتی سرکاری تیل کمپنیوں نے نومبر 2025 میں 2026 کے معاہداتی سال کے لیے امریکی خلیجی ساحل سے تقریباً 2.2 ملین میٹرک ٹن ایل پی جی سالانہ درآمد کرنے کا ایک سالہ معاہدہ کیا تھا۔
پیٹروکیمیکل صنعت متاثر ہونے کا خدشہ
پروپین اور بیوٹین کو ایل پی جی کی تیاری میں استعمال کرنے سے کچھ پیٹروکیمیکل مصنوعات کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ ان میں الکائیلیٹس بھی شامل ہیں جو پیٹرول میں ملائے جاتے ہیں۔ Reliance Industries جیسی کمپنیاں ہر ماہ الکائیلیٹس کے کئی کارگو برآمد کرتی رہی ہیں۔حکومت نے ریفائنریوں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ پروپین اور بیوٹین کو پیٹروکیمیکل مصنوعات بنانے کے بجائے ترجیحی بنیادوں پر ایل پی جی کی تیاری میں استعمال کریں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے پیٹروکیمیکل کمپنیوں کے منافع پر اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ پولی پروپلین اور الکائیلیٹس جیسی مصنوعات کی قیمت عموماً ایل پی جی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح گھریلو صارفین کو رسوئی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
