وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ‘من کی بات’ پروگرام کے 131ویں ایپی سوڈ میں کیرالہ کی 10 ماہ کی بچی آلن شیرین ابراہیم کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آلن کو برین ڈیڈ قرار دیے جانے کے بعد اس کے والدین نے اعضا عطیہ کرنے کا فیصلہ لیا، جس کے باعث کئی لوگوں کی زندگیاں بچ سکیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ کسی بھی والدین کے لیے اپنے بچے کو کھونا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے، لیکن اتنے گہرے غم کے باوجود آلن کے والدین نے انسانیت کی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے دوسروں کی زندگی بچانے کا عظیم فیصلہ کیا۔
والدین کا حوصلہ مند فیصلہ
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آلن کے والد ارون ابراہیم اور والدہ شیرین نے جس جرات مندانہ فیصلے کا مظاہرہ کیا، وہ اُن کی بلند فکر اور عظیم شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنی معصوم بیٹی کو کھونے کے باوجود انہوں نے دوسروں کو زندگی دینے کا عہد کیا۔ آلن کا نام اب ملک کے کم عمر ترین آرگن ڈونرز میں شامل ہو چکا ہے۔
اعضا عطیہ کے بارے میں بڑھتی بیداری
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اعضا عطیہ کے حوالے سے مسلسل بیداری بڑھ رہی ہے، جس سے نہ صرف ضرورت مند مریضوں کو نئی زندگی مل رہی ہے بلکہ طبی تحقیق کو بھی نئی سمت حاصل ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی ادارے اور افراد اس میدان میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دیگر متاثر کن مثالیں
انہوں نے دہلی کی لکشمی دیوی کی مثال پیش کی، جنہوں نے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے بعد کیدارناتھ جیسے دشوار گزار مقام کا سفر مکمل کیا۔ ان کا دل پہلے صرف 15 فیصد تک کام کر رہا تھا، لیکن ڈونر ہارٹ ملنے کے بعد اُن کی زندگی بدل گئی۔ اسی طرح مغربی بنگال کے گورانگ بنرجی نے پھیپھڑوں کی پیوندکاری کے بعد دو مرتبہ ناتھولا کی بلند چوٹی تک سفر کر کے نئی مثال قائم کی۔
ملک کے عوام کے نام پیغام
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اعضا عطیہ کسی انسان کی زندگی مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ یہ صرف طبی میدان کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور باہمی تعاون کے جذبے کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


