Bharat Express DD Free Dish

Union Budget 2026:کانگریس ایم پی عمران مسعود نے بجٹ کو بتایا کھوکھلا، ڈمپل یادو بولیں- بجٹ کی زبان عام آدمی کی سمجھ سے باہر

مرکزی بجٹ 2026 کو لے کر اپوزیشن لیڈران کے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے بجٹ میں ریاستوں، کسانوں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ٹھوس انتظامات کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔

نئی دہلی: مرکزی بجٹ 2026 کو لے کر اپوزیشن لیڈران کے ردِعمل سامنے آئے ہیں۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے بجٹ میں ریاستوں، کسانوں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ٹھوس انتظامات کی کمی کا الزام عائد کیا ہے۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے بجٹ کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کسانوں کے لیے کچھ بھی خاص نہیں ہے اور برآمد کنندگان کے مسائل کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتر پردیش کے مرادآباد اور سہارنپور جیسے علاقوں سے برآمدات تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں، مگر بجٹ میں ٹیرف اور برآمدات سے جڑی مشکلات پر کوئی راحت نہیں دی گئی۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ بجٹ تقریر میں کیرالہ کے لیے واضح طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا، جو مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم نے صرف تقریر سنی ہے، مکمل بجٹ دستاویز ابھی نہیں پڑھی، اس لیے ممکن ہے کہ آگے تفصیلات میں کچھ نکات سامنے آئیں، لیکن اس وقت تقریر میں ضروری معلومات کی کمی صاف نظر آتی ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن جے بی ماتھر نے بھی کیرالہ کو لے کر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کے لیے کسی خاص اسکیم یا ہائی اسپیڈ ریلوے منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، جو نہایت مایوس کن ہے۔ ان کے مطابق ایک بار پھر کیرالہ کو نظرانداز کیا گیا ہے، حالانکہ امید تھی کہ حکومت کم از کم سیاسی یا ترقیاتی نقطۂ نظر سے ریاست پر توجہ دے گی۔

کانگریس کے رکن منیش تیواری نے بجٹ کے معاشی پہلوؤں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معیشت کے ساختی مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں نامیاتی (نومینل) جی ڈی پی میں گراوٹ دیکھی گئی ہے اور ٹیکس بیوینسی انتہائی کم ہے، جس سے سرکاری آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سرمایہ جاتی اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی سرمایہ کاری اب بھی رفتار نہیں پکڑ پا رہی۔

کانگریس کے رکن اجول رمن سنگھ نے کہا، ’’یہ ایک مایوس کن بجٹ تھا اور یہ ملک کو نئی توانائی دینے کے قابل نہیں ہے۔ اس بجٹ میں کسانوں، بے روزگار نوجوانوں اور خاص طور پر اتر پردیش کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ میں کہوں گا کہ پریاگ راج کو ایک ریفائنری اور ایک ایمس کی ضرورت تھی۔ لوگوں کو امید تھی کہ حکومت بجٹ کے ذریعے کچھ اعلان کرے گی، لیکن چونکہ ان کا کوئی ذکر نہیں ہوا، اس لیے لوگ مایوس ہیں۔‘‘

وہیں سماج وادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے بجٹ کی زبان کو عام عوام کے لیے پیچیدہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نہ خواتین کے لیے کچھ خاص ہے، نہ نوجوانوں کے لیے اور نہ ہی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر آتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے رکن راجیو کمار رائے نے کہا، ’’میں برسوں سے بجٹ سنتا آ رہا ہوں، لیکن اتنا مایوس کن اور الجھا ہوا بجٹ کبھی نہیں سنا۔ اس میں کسی کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بجٹ صرف چند منتخب کارپوریٹ گھرانوں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسے کہیں اور لکھا گیا اور یہاں آ کر صرف پڑھ کر سنا دیا گیا۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read