دہلی پولیس میں تعینات لیڈی کمانڈو کاجل کو اس کے شوہر نے سر پر ڈمبل مار کر قتل کر دیا۔ قتل کے وقت کاجل پانچ ماہ کی حاملہ تھی اور وہ ہر یانہ کے سونی پت کی رہائشی تھی۔ قتل کے بعد ملزم شوہر نے اپنے برادرِ نسبتی کو فون کر کے بتایا کہ ’’یہ میرے سے مر گئی ہے، تُو دہلی آجا۔‘‘ مقتولہ کے بھائی نکھل کا الزام ہے کہ بہن کے شوہر انکور چودھری نے واردات سے پہلے اس سے جھگڑا کیا تھا، جس کی اطلاع کاجل نے نکھل کو دی تھی۔
سسرالی افراد اسے ’کالی بہو‘ کہہ کر تانے مارتے تھے
کاجل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ شادی کے کچھ ہی دنوں بعد ہی اس کے سسرالی افراد اسے ’کالی بہو‘ کہہ کر تانے مارتے تھے۔ حتیٰ کہ سسر اوم پرکاش نے کہا تھا کہ ’مجھے کالی بہو پسند نہیں ہے۔‘ اہل خانہ کے مطابق کاجل پانی پت کے آری کالج میں B.Sc کمپیوٹر سائنس کی پڑھائی کے دوران 2020 میں گنّاور کے رہائشی انکور سے ملی۔ دونوں میں بات چیت ہونے لگی اور شادی کے لیے رضا مند ہو گئے، تاہم دونوں کے اہل خانہ اس شادی کے خلاف تھے۔ کاجل نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ صرف اور صرف انکور سے ہی شادی کرے گی اور خاندان نے اس کی ضد کے باعث 23 نومبر 2023 کو دونوں کی شادی کرائی۔
کاجل کو دہلی پولیس کے کمانڈو یونٹ میں نوکری
سال 2022 میں کاجل کو دہلی پولیس کے کمانڈو یونٹ میں نوکری مل گئی، اور اسی دوران انکور کو بھی وزارت دفاع میں کلرک کی نوکری نصیب ہوئی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے ہی سسرالی افراد جہیز کی مانگ کرنے لگے، جبکہ شادی کے وقت بائیک، سونے کی چین، انگوٹھی اور 21 ہزار روپے جہیز میں دیے گئے تھے۔ سسرالی افراد کم از کم ڈیڑھ لاکھ روپے کا مزید مطالبہ کرتے تھے۔ کاجل کی والدہ کے مطابق انکور اپنے ایک دوست کے ساتھ روڑکی میں سرکاری نوکری دلانے کا ایک مرکز چلایا کرتا تھا، جہاں پیپر لیک ہونے کے الزامات لگے، اور اس معاملے میں کسی کی موت ہو گئی، مگر انکور بچ گیا۔ یہ راز کاجل کو معلوم ہو گیا، جس کی وجہ سے انکور اور کاجل کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی۔
حتمی وجہ:
گھر میں ہر جھگڑے کے وقت کاجل پولیس سے شکایت کرنے کی بات کرتی تھی، خاص طور پر روڑکی والے معاملے کے حوالے سے، جو انکور کی آنکھ میں کھٹک رہا تھا، اور یہی کشیدگی قتل کا سبب بنی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



