جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی۔ (فائل فوٹو)
لکھنؤ: لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں، مسلم مذہبی تنظیموں اور سماجی حلقوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے کے جی ایم یو انتظامیہ کی جانب سے کی گئی کارروائی اور نوٹسوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے جی ایم یو سے متصل حضرت حاجی ہرمین شاہ کے آستانے میں توڑ پھوڑ اور اب حضرت مخدوم شاہ مینا کے احاطے میں واقع 500 سال سے زائد قدیم مزارات کے خلاف انہدامی نوٹس جاری کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف بھی ہے۔ مولانا مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات آئین ہند میں دیے گئے مذہبی آزادی کے حق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
مولانا مدنی نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کے جی ایم یو سے متصل یہ مزارات کم از کم 700 سال پرانے ہیں، جبکہ کنگ جارج میڈیکل کالج کی بنیاد 1912 میں رکھی گئی تھی۔ ایسی صورت میں یہ کہنا کہ درگاہیں کالج کے بعد وجود میں آئیں، سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے قیام کے وقت ہی ریونیو محکمے نے درگاہ کی زمین کو باقاعدہ حد بندی کے ذریعے کالج کی زمین سے الگ کر دیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ زمین اپنی مستقل اور آزاد قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ جمعیۃ کے صدر نے الزام عائد کیا کہ میڈیا کے ذریعے ایک غلط بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے سہارے تاریخی وقف املاک پر ناجائز کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 اپریل 2025 کو تقریباً 700 سال پرانے آستانہ حضرت حاجی ہرمین شاہ کی حدود میں واقع وضوخانہ، عبادت گاہ اور زائرین کی سہولتوں کو پروفیسر ڈاکٹر کے کے سنگھ کی نگرانی میں منہدم کیا گیا، جو یکطرفہ اور مکمل طور پر غیر قانونی اقدام تھا۔ اس کارروائی کے لیے نہ کوئی عدالتی حکم موجود تھا اور نہ ہی کسی قانونی اجازت کا سہارا لیا گیا۔
مولانا محمود مدنی نے واضح کیا کہ متعلقہ زمین وقف ایکٹ 1995 کے تحت باقاعدہ وقف جائیداد ہے اور سنی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ وقف قانون کے مطابق وقف املاک سے متعلق کسی بھی تنازع یا کارروائی کا اختیار صرف مجاز عدالت کو حاصل ہے، نہ کہ کسی تعلیمی ادارے یا اس کے افسران کو۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے انہدامی نوٹس جاری کرنا اور دباؤ کی پالیسی اپنانا مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کے جی ایم یو انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گمراہ کن تشہیر کے ذریعے ملک کے وقف قوانین کی خلاف ورزی سے باز آئے اور فوری طور پر تمام نوٹس واپس لے۔ مولانا مدنی کا کہنا تھا کہ اگر اس قسم کی کارروائیاں جاری رہیں تو جمعیۃ علمائے ہند قانونی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔
آخر میں مولانا محمود مدنی نے سنی وقف بورڈ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فعال اور مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قدیم مزارات، مذہبی مقامات اور تاریخی ورثے کی منظم نشاندہی کے لیے خصوصی مہم چلائے۔ جن حصوں کو منہدم کیا گیا ہے، ان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور متولیوں کو تمام متعلقہ قانونی دستاویزات کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں، تاکہ آئندہ اس طرح کے تنازعات اور اقدامات کو روکا جا سکے۔ مولانا مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کا تحفظ ملک کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور کسی بھی صورت میں تاریخی مذہبی ورثے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ قابل قبول نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

