بریلی کے ایس ڈی ایم النکاراگنی ہوتری نے کل دوپہر26 جنوری 2026 کواپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سال 2019 بیچ کے صوبائی سول سروسیزکے افسرالنکاراگنی ہوتری نے شنکر آچاریہ اویمکتیشورانند کے ساتھ ناروا سلوک کئے جانے اوران کے شاگردوں کے ساتھ چرکی (چوٹی) پکڑکرمارپیٹ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے یوجی سی کے نئے قوانین کواعلیٰ ذات کے خلاف بتاتے ہوئے یوم جمہوریہ (26 جنوری 2026) کے موقع پراپنا استعفیٰ گورنر، پرنسپل سکریٹری برائے تقرری اورضلع مجسٹریٹ کوسونپ دیا۔ تاہم خبرہے کہ بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ نے انہیں منانے کی کوشش کی۔
ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ پر4 اے ڈی ایم اورایس ڈی ایم افسران کوبھیج کرانہیں بلایا گیا، لیکن بات نہیں بنی۔ ایس ڈی ایم النکاراگنی ہوتری نے ڈی ایم پرالزام لگایا کہ انہوں نے مجھے دوگھنٹہ یرغمال بنائے رکھا۔ مجھ سے نازیبا الفاظ میں بات گئی اورلکھنو سے ایک فون تھا۔ اس میں کہا گیا، ’’یہ پنڈت پاگل ہوگیا ہے، اس کورات بھرمت چھوڑنا۔‘‘
استعفیٰ دے دیا تو پھرمعطلی کیوں؟
النکاراگنی ہوتری نے کہا کہ وہ کسی طریقے سے وہاں سے نکل کرباہرآئے اورمیڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مجھے 2 گھنٹے میں رہائش گاہ خالی کرنے کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں سرکاری آواس دوگھنٹے میں خالی کردوں گا اورمیرے جان کو خطرہ ہے۔ رات کوہی رہائش گاہ خالی کرکے اپنا سامان کہیں الگ شفٹ کرلیا۔ تاہم فلیٹ ہینڈ اوورنہیں کیا۔ صبح پھرسے النکار اگنی ہوتری رہائش گاہ پہنچے توان کوڈی ایم دفترکی طرف سے معطلی کا حکم نامہ پہنچا۔ معلطی احکامات دیتے ہوئے النکارنے حکومت پرالزام لگایا کہ جب میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا توپھرمعطلی کیوں کی گئی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے جان بوجھ کررات کوکہا جا رہا تھا کہ آپ دویا تین یا چاردن کے لئے استعفیٰ واپس لے لیجئے، آپ کے سامنے معاملے سیٹلمنٹ کردیئے جائیں گے۔ مجھے معلوم تھا کہ اگراستعفیٰ واپس لے لیتا تویہ لوگ مجھے بے ضابطگی کے الزام پرمعطل کردیتے اورپھربرخاست بھی کردیتے۔ اس لئے میں نے استعفیٰ واپس لینے سے انکارکردیا۔ اب جب استعفیٰ دے دیا تواس کے بعد معطلی کا کوئی ضابطہ نہیں ہے اوراس کے خلاف میں عدالت بھی جاوں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہیں دوسری طرف ڈی ایم کی رہائش گاہ پرایس ڈی ایم سٹی دھرنے پربیٹھے ہیں۔
کیا کہتے ہیں ضوابط؟
اب سوال اٹھتا ہے کہ النکاراگنی ہوتری کے استعفیٰ کے بعد معطلی کیوں ہوئی؟ اس سے متعلق ضوابط کیا کہتا ہے؟ دراصل، جب کوئی انتظامی افسراپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہے تو کوئی بھی بیان یا بات کرسکتا ہے۔ عہدے پررہتے ہوئے ریاستی حکومت یا ضوابط کے خلاف کوئی بھی بیان بازی نہیں کرسکتا۔ اگرعہدے پررہتے ہوئے بیان بازی کرتا ہے تواسے معطل بھی کیا جاسکتا ہے اوربرخاست بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن النکاراگنی ہوتری نے استعفیٰ دینے کے بعد یوجی سی اورشنکرآچاریہ کے موضوع پرکہا کہ حکومت برہمنوں کی توہین کررہی ہے۔ حالانکہ استعفیٰ ایک لائن میں بھی لکھ کردیا جاسکتا ہے کہ میں ذاتی وجوہات سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ استعفیٰ اکثروبیشترمنظوربھی ہوجاتا ہے۔ یوگی حکومت میں تقریباً ایک درجن آئی اے ایس اورآئی پی ایس افسران نے استعفیٰ دیا جومنظورہوچکا ہے۔ تاہم النکاراگنی ہوتری کے معاملے میں کچھ اورہے۔ دراصل، حکومت پرتنقید کرتے ہوئے 5 صفحات کا استعفیٰ لکھا۔ اس میں انہوں نے حکومت کے طریقہ کارپرسوال اٹھایا۔ یہ حکومت کوناگوارگزرا اوردیررات ان کومعطل کردیا۔ یوپی حکومت شنکرآچاریہ اوریوجی سی کے موضوع پرہمدردی یا سماج میں شاہد کا درجہ دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
