نئی دہلی: مرکزی حکومت کی ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم نے جمعرات کو اپنے 11 سال مکمل کر لیے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ آج بھارت کی بیٹیاں ہر شعبے میں نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا، ’’کنیا کو لکشمی ماننے والے ہمارے ملک میں آج ہی کے دن 11 سال پہلے ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم کی شروعات ہوئی تھی۔ یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ آج بھارت کی بیٹیاں ہر میدان میں نت نئے ریکارڈ بنا رہی ہیں۔‘‘ پی ایم مودی نے ایک سنسکرت سُبھاشِت شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’دش پُترسما کنیا دش پُتران وردھیَن۔ یت پھلَم لبھتے مرتیَستَل لبھیَم کنیا یَیکَیا॥‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم کی شروعات 22 جنوری 2015 کو کی گئی تھی۔ اس کا مقصد جنس کی بنیاد پر انتخاب کو روکنا، بچیوں کے وجود اور تحفظ کو یقینی بنانا اور ان کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی سو فیصد مالی اعانت سے چلنے والی اسکیم ہے، جو ملک کے تمام اضلاع میں نافذ کی جا رہی ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم نے قومی شعور میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ اس مہم نے برادریوں، سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور میڈیا کو یکجا کر کے لڑکیوں کے حق میں معاون اور منصفانہ ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت پیدائش کے وقت صنفی تناسب (ایس آر بی) میں بہتری، بچیوں کی تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بیداری اور لڑکیوں و خواتین کے لیے بہتر صحت خدمات کو یقینی بنانے کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ’ایچ آئی ایم آئی ایس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں پیدائش کے وقت صنفی تناسب سال 2014-15 میں 918 تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 929 تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح، وزارتِ تعلیم کے یو ڈی آئی ایس ای کے اعداد و شمار کے مطابق، ثانوی سطح پر بچیوں کا مجموعی اندراج تناسب 75.51 فیصد سے بڑھ کر 78 فیصد ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


