Bharat Express DD Free Dish

Sukanya Samriddhi Yojana: مودی حکومت کی ’سکنیا سمردھی یوجنا‘ اور ‘بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ’ مہم کے 11 سال مکمل، بچت کے ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے میں ملی مدد

مودی حکومت کی اہم سماجی و مالی اسکیم سکنیا سمردھی یوجنا (ایس ایس وائی) کو جمعرات کے روز 11 سال مکمل ہو گئے۔ 22 جنوری 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کے تحت شروع کی گئی اس اسکیم نے ملک بھر میں کروڑوں بچیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

نئی دہلی: مودی حکومت کی اہم سماجی و مالی اسکیم سکنیا سمردھی یوجنا (ایس ایس وائی) کو جمعرات کے روز 11 سال مکمل ہو گئے۔ 22 جنوری 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کے تحت شروع کی گئی اس اسکیم نے ملک بھر میں کروڑوں بچیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ یہ اسکیم نہ صرف بچیوں کی تعلیم اور شادی جیسے بڑے اخراجات کے لیے مالی تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم بھی ثابت ہوئی ہے۔ سکنیا سمردھی یوجنا ایک کم خطرے والی بچت اسکیم ہے، جس میں حکومت اصل رقم کی ضمانت دیتی ہے اور طے شدہ شرح کے مطابق منافع فراہم کرتی ہے۔ اس وقت اس اسکیم پر 8.2 فیصد سالانہ شرحِ سود دی جا رہی ہے، جو عام بچت اسکیموں کے مقابلے میں خاصی پرکشش مانی جاتی ہے۔ حکومت ہر سہ ماہی میں شرحِ سود کا جائزہ لیتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو سالانہ بنیاد پر منافع دیا جاتا ہے، جس سے طویل مدت میں خطیر رقم جمع ہو جاتی ہے۔

اس اسکیم کا بنیادی مقصد بچیوں کی تعلیم اور مستقبل کے دیگر اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر بچپن ہی سے بچیوں کے نام پر بچت کی جائے تو والدین پر مالی دباؤ کم ہوتا ہے اور بچیاں بھی خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اسکیم کو خواتین کے مجموعی بااختیار بنانے سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ سکنیا سمردھی یوجنا کے تحت والدین یا قانونی سرپرست اپنی بچی کے نام پر ملک کے کسی بھی ڈاک خانے یا کسی بھی سرکاری بینک کے علاوہ مجاز نجی بینکوں جیسے ایچ ڈی ایف سی بینک، ایکسس بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک میں کھاتہ کھول سکتے ہیں۔ یہ کھاتہ بچی کی پیدائش سے لے کر 10 سال کی عمر تک کسی بھی وقت کھولا جا سکتا ہے۔ ایک بچی کے لیے صرف ایک ہی کھاتہ کھولا جا سکتا ہے اور ایک خاندان زیادہ سے زیادہ دو بچیوں کے لیے اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ تاہم جڑواں یا تین جڑواں بچوں کی صورت میں ضروری دستاویزات جمع کرانے پر اس حد میں نرمی دی جاتی ہے۔

اس اسکیم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب تک بچی 18 سال کی عمر کو نہیں پہنچتی، تب تک کھاتے کا انتظام والدین یا سرپرست کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ جمع شدہ رقم صرف بچی کی تعلیم اور مستقبل کی ضروریات کے لیے ہی استعمال ہو۔ 18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد، مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے پر بچی خود اپنے کھاتے کی نگہداشت سنبھال سکتی ہے، جو اسے مالی طور پر خود مختار بننے کی سمت ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں 4.53 کروڑ سے زیادہ سکنیا سمردھی یوجنا کے کھاتے کھولے جا چکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 3.33 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس اسکیم کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی ہے اور والدین نے بچیوں کے مستقبل کے لیے اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنایا ہے۔

اسی دن یعنی 22 جنوری 2015 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کا بھی آغاز کیا تھا۔ اس مہم کا مقصد بچیوں کی پیدائش کو تحفظ فراہم کرنا، صنفی امتیاز کو ختم کرنا اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت جنس کے تناسب میں بہتری، اسکولوں میں لڑکیوں کے داخلے میں اضافہ اور سماج میں بیٹیوں کے تئیں مثبت سوچ کو فروغ دینے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ مہم خواتین و اطفال کی ترقی، تعلیم اور صحت کی وزارتوں کے باہمی تعاون سے چلائی جا رہی ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں سکنیا سمردھی یوجنا اور بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم نے مل کر نہ صرف بچیوں کی مالی اور تعلیمی حالت کو مضبوط کیا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی خواتین کے احترام اور بااختیار بنانے کے تصور کو تقویت دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان اسکیموں کے دائرہ کار کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ ہر بیٹی کو محفوظ، تعلیم یافتہ اور خود مختار مستقبل مل سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read