Bharat Express DD Free Dish

Rash Behari Bose’s Death Anniversary: امت شاہ نے راس بہاری بوس کی برسی پر پیش کیا خراجِ عقیدت، جدوجہدِ آزادی میں ان کے کردار پر ڈالی روشنی

راس بہاری بوس نے انڈین انڈیپینڈنس لیگ کی بنیاد رکھی تھی اور وہ غدر بغاوت کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔ انہوں نے 1912 میں اس وقت کے وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ پر حملے کی ناکام کوشش میں بھی کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد وہ جاپان فرار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) سے بھی وابستہ رہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز آزادی کے مجاہد راس بہاری بوس کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور بھارت کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے کلیدی کردار کو یاد کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں امت شاہ نے لکھا، “غدر انقلاب سے لے کر ’انڈین نیشنل آرمی‘ کے قیام تک، راس بہاری بوس جی نے ملک کی آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی۔ ’انڈین انڈیپینڈنس لیگ‘ کے ذریعے انہوں نے بیرونِ ملک بھارتی آزادی کی تحریک کے لیے حمایت اور وسائل جمع کر کے آزادی کی لڑائی کو مزید وسعت دی۔ ماں بھارتی کے بہادر سپوت راس بہاری بوس جی کی برسی پر میں انہیں عاجزانہ خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔”

 

راس بہاری بوس نے انڈین انڈیپینڈنس لیگ کی بنیاد رکھی تھی اور وہ غدر بغاوت کے اہم منتظمین میں شامل تھے۔ انہوں نے 1912 میں اس وقت کے وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ پر حملے کی ناکام کوشش میں بھی کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد وہ جاپان فرار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ انڈین نیشنل آرمی (آزاد ہند فوج) سے بھی وابستہ رہے۔

گزشتہ سال بھارت سے ایک آل پارٹی وفد، جس کی قیادت جنتا دل (یونائیٹڈ) کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے کمار جھا کر رہے تھے، جاپان گیا تھا۔ وفد نے راس بہاری بوس کی یومِ پیدائش کے موقع پر ٹوکیو کے تاما قبرستان میں ان کی قبر پر پھول نچھاور کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read