Bharat Express DD Free Dish

Great Bodo traditions: باگورومبا دھوؤ ہماری عظیم بوڈو روایات کی شان ہے، 2020 کا بوڈو امن معاہدہ، ایک تاریخی قدم: وزیراعظم مودی

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج بوڈو نوجوان کھیل، ثقافت اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور آسام کے ثقافتی سفیر کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو پورے ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔  وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی فائدے کے لیے بوڈولینڈ کو تشدد کی طرف دھکیلا، جبکہ موجودہ حکومت نے بات چیت اور اعتماد کے ذریعے مسائل کا حل نکالا۔ 

گوہاٹی (آسام) وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ باگورومبا دھوؤ صرف ایک ثقافتی پروگرام نہیں بلکہ بوڈو سماج کی عظیم روایات، تہذیبی ورثے اور اس کے ممتاز رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ وہ اتوار کو گوہاٹی کے سروسا جائی اسٹیڈیم میں منعقدہ باگورومبا دھوؤ 2026 سے خطاب کر رہے تھے، جس میں دس ہزار سے زائد فنکاروں اور شرکاء نے حصہ لیا اور شاندار لیزر شو نے تقریب کو یادگار بنا دیا۔

وزیراعظم کا ٹوئیٹ، بوڈو ثقافت کی ستائش

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس پروگرام کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا: ’’گوہاٹی میں باگورومبا دھوؤ ایک ایسا تجربہ رہا جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ بوڈو ثقافت کی رنگا رنگی، دس ہزار سے زائد افراد کی شرکت، شاندار لیزر شو اور بہت کچھ۔ خوشی ہے کہ یہ پروگرام پورے بھارت میں اپنی دھوم مچا رہا ہے اور لوگ ہماری ثقافت کی عظمت کو سراہ رہے ہیں۔‘‘

آسام کی ثقافت کو قومی اور عالمی پہچان

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں آسام اور بوڈو خطے کی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ آسام اور بوڈو ثقافت کو نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں پہچان ملے۔  انہوں نے بیہو تہوار، جھومور بنوندنی، نئی دہلی میں منعقدہ عظیم بوڈو مہوتسو اور دیگر ثقافتی پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

عظیم بوڈو رہنماؤں کو خراج عقیدت

وزیرِ اعظم مودی نے بودوفا اُپیندر ناتھ برہما، گرو دیو کلی چرن برہما، روپ ناتھ برہما، ستیہ چندر بسومتاری، مورادم برہما اور کنکیشور نرزری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے بوڈو سماج کو شناخت، وقار اور شعور عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسام اور بوڈو تاریخ کے بغیر ہندوستان کی تاریخ ادھوری ہے۔

بوڈو زبان اور باتھو دھرم کو فروغ

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے بوڈو زبان کو آسام کی معاون سرکاری زبان کا درجہ دیا، بوڈو تعلیم کے فروغ کے لیے علیحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا اور باتھو دھرم کو مکمل احترام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ باتھو پوجا کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا اور ثقافتی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔

تشدد سے ثقافت تک، آسام کی بدلتی تصویر

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا جب آسام تشدد، کرفیو اور خوف کی فضا میں گھرا رہتا تھا، لیکن آج اسی سرزمین پر ثقافت، رقص اور موسیقی کے رنگ بکھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کھام اور سیفنگ کی دھنیں، باگورومبا کے رقص اور تہذیبی تقریبات آسام کی نئی شناخت بن چکی ہیں۔

2020 کا بوڈو امن معاہدہ، ایک تاریخی قدم

وزیرِ اعظم نے کہا کہ 2020 کے بوڈو امن معاہدے نے دہائیوں پرانے تنازعے کا خاتمہ کیا، جس کے بعد ہزاروں نوجوانوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد بوڈولینڈ میں تعلیم، روزگار اور ترقی کے نئے دروازے کھلے ہیں۔

بوڈو نوجوان، ثقافت کے سفیر

وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج بوڈو نوجوان کھیل، ثقافت اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور آسام کے ثقافتی سفیر کے طور پر ابھر رہے ہیں، جو پورے ملک کے لیے فخر کی بات ہے۔  وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی فائدے کے لیے بوڈولینڈ کو تشدد کی طرف دھکیلا، جبکہ موجودہ حکومت نے بات چیت اور اعتماد کے ذریعے مسائل کا حل نکالا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کی قیادت میں غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

ترقیاتی منصوبے اور مستقبل کی راہ

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بوڈولینڈ میں 1500 کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج، کوکراجھار اور تمول پور میں میڈیکل کالج، اسکل ڈیولپمنٹ ادارے اور بہتر سڑک و ریل رابطہ، خطے کو ترقی کی نئی راہ پر لے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر گورنر آسام لکشمن پرساد آچاریہ، وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما، مرکزی وزراء سربانند سونووال اور پبیترا مارگریٹا سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read