نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے سم فروخت گھوٹالہ کیس میں ٹیلی کام کمپنی کے ایریا سیلز مینیجر بینو ودیا دھرن کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے 14 دن کی عدالتی تحویل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزید قید کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ تمام مادی شواہد پہلے ہی تفتیشی ایجنسی کے قبضے میں ہیں۔
عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی شرائط
راؤز ایونیو کورٹ کی ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری نے ملزم کو پانچ لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کے ایک ضمانتی کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت سخت شرائط کے ساتھ دی گئی، جن میں تفتیش میں تعاون، عدالت میں باقاعدہ پیشی، گواہوں یا شواہد سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنا اور ملک چھوڑنے سے قبل اجازت حاصل کرنا شامل ہے۔
سی بی آئی کی درخواست مسترد
عدالت نے سی بی آئی کی اس درخواست کو خارج کر دیا جس میں ملزم کی مزید عدالتی تحویل مانگی گئی تھی۔ عدالت نے کیس ڈائری اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ تفتیشی افسر خود یہ تسلیم کر چکا ہے کہ ملزم سے مزید کسی قسم کی برآمدگی درکار نہیں ہے۔ یہ معاملہ سی بی آئی کے آپریشن چکر-وی کا حصہ ہے، جس کے تحت 8 جنوری 2026 کو بینو ودیا دھرن کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے مطابق، دسمبر 2025 میں دہلی اور چندی گڑھ کے علاقوں میں سرگرم ایک منظم فشنگ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا تھا، جو بلک ایس ایم ایس کے ذریعے سائبر جرائم میں ملوث تھا۔
سم کارڈز کے غیر قانونی اجرا کا الزام
سی بی آئی کا الزام ہے کہ محکمۂ ٹیلی کمیونیکیشن کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقریباً 21 ہزار سم کارڈ حاصل کیے گئے، جنہیں فشنگ سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق، ملزم نے فرضی افراد کو کمپنی کا ملازم ظاہر کر کے کے وائی سی (KYC) مکمل کروائی اور بلک میں سم کارڈز کے اجرا میں سہولت فراہم کی۔
عدالت کا مشاہدہ: سازش کا عنصر غائب
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر استغاثہ کے الزامات کو بادی النظر میں درست بھی مان لیا جائے تو وہ زیادہ سے زیادہ سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، نہ کہ کسی مجرمانہ سازش کی طرف۔ عدالت کے مطابق، سازش کا بنیادی عنصر اس معاملے میں واضح طور پر موجود نہیں ہے۔ عدالت نے اس خدشے کو بھی مسترد کر دیا کہ ملزم شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے یا گواہوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ملزم کا ماضی صاف ہے، اس کی مستقل رہائش ہے اور اس کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ
عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پی چدمبرم بنام سی بی آئی اور سنجے چندرا بنام سی بی آئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کا مقصد ملزم کی عدالتی کارروائی میں موجودگی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ اسے سزا دینا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس حکم کو مقدمے کی میرٹ پر کوئی رائے نہ سمجھا جائے اور تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


