Bharat Express DD Free Dish

DGCA’s tariff monitoring squad: ٹیرِف مانیٹرنگ کا نظام اور حکومتی موقف: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن 78 فضائی راستوں کے کرایوں کی کررہا ہے نگرانی، انڈگو معاملے پر سخت کارروائی کی یقین دہانی

مرکزی وزیر ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو ’’انتہائی سنجیدگی سے‘‘ دیکھ رہی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ: ’’نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت ایسا سخت قدم اٹھائے گی جو دوسری ایئر لائنز کے لیے بھی مثال ثابت ہوگا۔‘‘

نئی دہلی: حکومت نے پیر کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے ایک خصوصی ٹیرِف مانیٹرنگ یونٹ (TMU) قائم کیا ہے جو ملک کے 78 منتخب ہوائی راستوں پر فضائی کرایوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ یونٹ ایئر لائنز کی سرکاری ویب سائٹس سے ماہانہ بنیاد پر ٹکٹ نرخوں کا جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کمپنیاں اپنے طے شدہ حد سے زیادہ کرایہ وصول نہ کریں۔ حکومت کے مطابق یہ نگرانی ملکی فضائی ٹریفک کے تقریباً 27 فیصد حصے کا احاطہ کرتی ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے شہری ہوا بازی مرلی دھر موہول نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ اگرچہ حکومت کا فضائی کرایوں پر براہ راست کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ایئر لائنز کو اپنی تجارتی اور عملی ضرورت کے مطابق کرایہ طے کرنے اختیارات حاصل ہیں، تاہم انہیں ہوائی قوانین 1937 کے رول 135 کی پابندی لازمی طور پر کرنی ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ فضائی کرایوں کا تعین کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے جن میں طلب و رسد، سیٹوں کا استعمال، موسمی رجحانات، تیل کی قیمتیں، جہازوں کی سرگرمی اور دیگر اقتصادی حالات شامل ہیں۔

انڈگو بحران اور حکومتی ردعمل

اجلاس کے دوران انڈگو ایئر لائنز کے حالیہ بحران پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو ’’انتہائی سنجیدگی سے‘‘ دیکھ رہی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ: ’’نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت ایسا سخت قدم اٹھائے گی جو دوسری ایئر لائنز کے لیے بھی مثال ثابت ہوگا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یہ صورت حال انڈگو کے عملے کے شیڈولنگ سسٹم اور اندرونی آپریشنل مسائل کے باعث پیدا ہوئی تھی۔ وزیر نے کہا کہ جیسے ہی 3 دسمبر کو مسئلہ سامنے آیا، وزارت نے فوری طور پر صورتحال کو کنٹرول کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read