برسبین: آسٹریلیا کے صوبہ کوئنزلینڈ کی سپریم کورٹ نے براؤس مائننگ اینڈ ریسورسز (اڈانی گروپ) کے خلاف سرگرم ماحولیات مخالف کارروائیوں میں ملوث کارکن بین پیننگز کو مستقل طور پر کمپنی کے خفیہ کاروباری معاملات تک رسائی یا ان کے استعمال سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی اور اس کے سرکردہ مخالفین میں جاری کئی سالہ قانونی جنگ کا اختتام ہے۔
خفیہ معلومات کی تلاش پر مستقل پابندی
عدالتی حکم کے مطابق بین پیننگز براؤس کے ملازمین، ٹھیکہ داروں یا ممکنہ ٹھیکہ داروں سے خفیہ معلومات حاصل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی کسی دوسرے شخص کو ایسا کرنے کی ترغیب دے سکیں گے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم ان کی جائز اور قانونی احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہیں کرتا۔
کارمیکیل مائننگ پروجیکٹ اور اس کا پس منظر
براؤس مائننگ اینڈ ریسورسز، اڈانی گروپ کا حصہ ہے اور گلیلی بیسن میں واقع کارمیکیل کوئلہ کان کو چلاتی ہے، جہاں سے سالانہ تقریباً ایک کروڑ ٹن کوئلہ برآمد کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا میں ہندوستان کی سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتی ہے۔
پیننگز پر الزامات اور کمپنی کا مؤقف
براؤس کی جانب سے دائر سول مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ پیننگز نے کمپنی کے منصوبوں اور سپلائی چین میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر مک کرو نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’یہ مقدمہ پیسے کے لیے نہیں تھا بلکہ ہمارے ملازمین اور ٹھیکہ داروں کو ہراسانی اور دباؤ سے بچانے کے لیے تھا۔‘‘
احتجاج، دھرنے اور کارپوریٹ اثرات
عدالت میں جمع کرائے گئے شواہد کے مطابق پیننگز کی قیادت میں احتجاج، روڈ بلاک، دفتر میں گھسنے کی کوششوں اور سپلائی کمپنیوں پر دباؤ کے نتیجے میں متعدد کاروباری اداروں نے براؤس سے اپنا تعلق ختم کر دیا، جبکہ کئی کمپنیوں کو اضافی سکیورٹی پر سرمایہ کاری کرنا پڑی۔ پیننگز کو ماضی میں بھی ایک احتجاج کے دوران پینکنبا میں گرفتار کیا گیا تھا۔
سیاسی اور ماحولیاتی سرگرمیوں کا پس منظر
بین پیننگز جو کبھی گرین پارٹی کے ساتھ بھی وابستہ رہے اور بریسبین کے میئر کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں ’’گلیلی بلاکیڈ‘‘، ’’اسٹاپ اڈانی‘‘ اور ’’جنریشن الفا‘‘ جیسے ماحولیات پر مبنی گروپس کے سرگرم رکن رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ براؤس کا مقدمہ سرگرمیوں اور آزادیٔ اظہار پر حملہ تھا، جبکہ کمپنی کا کہنا تھا کہ اقدام قانونی خلاف ورزی اور دھمکی آمیز رویے کے خلاف تھا، نہ کہ سیاسی اختلاف رائے کے خلاف۔
کارپوریٹ سرگرمی، ماحولیات اور قانونی نظام
ماہرین اس مقدمے کو آسٹریلیا میں ماحولیاتی تحریک اور کارپوریٹ مفادات کے درمیان جاری جدوجہد کا اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ فیصلے نے اس سوال کو نئی جہت دی ہے کہ کمپنیوں کے خفیہ مفادات اور عوامی احتجاج کے درمیان قانونی حدود کیا ہیں۔
اڈانی گروپ کا ردعمل اور مستقبل کا منظرنامہ
کمپنی کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ان کے ہزاروں ملازمین اور ٹھیکہ داروں کے تحفظ کیلئے اہم قدم ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، مگر دراندازی، دھمکی، یا خفیہ معلومات کے غلط استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ آسٹریلیا کی ان عدالتی مثالوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے ماحولیات مخالف سرگرمیوں اور کارپوریٹ راز داری کے درمیان قانونی حدود کو مزید مضبوط کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

