افریقہ میں پہلی بار میزبان جی 20 اجلاس میں، وزیر اعظم مودی نے عالمی ترقی کے پیمانوں پر گہری نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران، جس کا موضوع تھا ’’شمولیتی اور پائیدار اقتصادی ترقی جس میں کوئی پیچھے نہ رہے‘‘، وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ اگرچہ جی 20 نے طویل عرصے سے عالمی مالیات اور ترقی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے، موجودہ ماڈلز نے بڑی آبادیوں کو وسائل سے محروم کیا اور قدرتی وسائل کی ضرورت سے زیادہ استعمال کو فروغ دیا، جو چیلنجز افریقہ میں بہت زیادہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے تین انقلابی نئے اقدامات کا خاکہ پیش کیا:
- عالمی روایتی علم کا ذخیرہ
وزیر اعظم نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دنیا بھر کی کئی کمیونٹیز ماحول دوست، ثقافتی طور پر مالامال اور سماجی طور پر مربوط طرزِ زندگی کو برقرار رکھتی ہیں، اور تجویز دی کہ جی 20 کے تحت ایک عالمی روایتی علم کا ذخیرہ قائم کیا جائے۔ ہندوستان کا Indian Knowledge Systems منصوبہ اس پلیٹ فارم کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ ذخیرہ روایتی حکمت کو دستاویزی شکل دے گا جو پائیدار طرزِ زندگی کے ٹائم ٹیسٹ شدہ ماڈلز کو ظاہر کرے گا، اور یقینی بنائے گا کہ یہ علم آنے والی نسلوں تک منتقل ہو۔
- جی 20-افریقہ اسکلز ملٹی پلائر اقدام
وزیر اعظم نے زور دیا کہ افریقہ کی ترقی عالمی مفاد میں ہے، اور تجویز دی کہ جی 20-افریقہ اسکلز ملٹی پلائر کو متعارف کرایا جائے۔ یہ اقدام مختلف شعبوں میں ’ٹرین دی ٹرینرز‘ ماڈل کو اپنائے گا، جس کی مالی معاونت تمام جی 20 شرکاء کریں گے۔ اجتماعی ہدف یہ ہے کہ اگلے دس سالوں میں افریقہ میں ایک ملین مصدقہ ٹرینرز تیار کیے جائیں، جو پھر لاکھوں نوجوانوں کو مہارت سکھائیں گے۔
- منشیات اور ٹیرر نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے جی 20 اقدام
وزیر اعظم مودی نے خطرناک مصنوعی منشیات جیسے فینٹانیل کے تیز پھیلاؤ کی جانب توجہ دلائی اور ان کے صحت عامہ، سماجی استحکام اور عالمی سلامتی پر سنگین اثرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ منشیات اور دہشت گردی کے نیٹ ورک سے نمٹنے کے لیے ایک مخصوص جی 20 اقدام شروع کیا جائے، جس کا مقصد مالیاتی، حکومتی اور سلامتی کے آلات کو یکجا کرنا ہے۔ یہ اقدام اسمگلنگ نیٹ ورکس کو ختم کرنے، غیر قانونی مالی بہاؤ کو روکنے اور دہشت گردی کے مالی وسائل کو کمزور کرنے میں مدد دے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
