فلپائن کے وسطی علاقوں میں طاقتور سمندری طوفان کالماگی کی تباہ کاریوں کے بعد مقامی آبادی گھروں اور سڑکوں سے کیچڑ اور ملبہ صاف کرنے میں مصروف ہے۔ اس طوفان کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سی این این نے مقامی نشریاتی اداروں کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔

سیبو صوبہ سب سے زیادہ متاثر
سیبو صوبہ جو سیاحت کے لیے مشہور ہے، طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ سیلابی پانی کے اترنے کے بعد تباہی کی اصل صورتحال سامنے آنے لگی ہے۔ گھروں کی دیواریں گر گئیں، گاڑیاں الٹ گئیں اور سڑکیں ملبے سے بھر گئی ہیں۔ سیبو سٹی کے رہائشی مارلون اینریکیز نے کہا: ’’میں 16 سال سے یہاں رہ رہا ہوں، لیکن ایسا سیلاب کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ اسی طرح ٹالیسائے کی رہنے والی ایلین اوکن نے بتایا کہ ان کا گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا: ’’ہم نے برسوں کی محنت سے سب کچھ بنایا تھا اور لمحوں میں سب ختم ہو گیا۔ لیکن شکر ہے کہ میرے بچے اور گھر والے زندہ ہیں۔‘‘

امدادی مشن کے دوران ہیلی کاپٹر حادثہ
ہلاک ہونے والوں میں چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں، جن کا ہیلی کاپٹر صوبہ اگوسان ڈیل سور میں امدادی کارروائی کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ قومی آپدا ایجنسی کے مطابق کم از کم 75 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جبکہ 17 افراد زخمی ہیں۔
بڑے پیمانے پر نقل مکانی
کالماگی طوفان جسے مقامی لوگ ٹینو کے نام سے بھی پکارتے ہیں، وسیع پیمانے پر سیلاب اور بجلی کی فراہمی متاثر کی۔ ویسایا خطے کے علاوہ جنوبی لوزون اور شمالی مینڈاناؤ میں دو لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نکال کر پناہ گاہوں میں منتقل کرنا پڑا۔
ایک مہینے میں دوسرا بڑا سانحہ
یہ طوفان ایسے وقت میں آیا ہے جب صرف ایک ماہ قبل ہی شمالی سیبو میں آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے میں بھی درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے تھے اور ہزاروں بے گھر ہوئے تھے۔
ویتنام کے لیے انتباہ
محکمہ موسمیات کے مطابق کالماگی فلپائن سے نکل کر جنوبی بحیرۂ چین کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے مزید طاقتور ہونے کا امکان ہے۔ ویتنام میں جمعہ کو ممکنہ لینڈ فال (زمینی تودے کھسکنے) کے پیش نظر حکام نے ہنگامی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

