وزیراعظم نریندر مودی۔
آرہ: وزیراعظم نریندر مودی نے بہار میں انتخابی جلسے کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور کانگریس پر زبردست حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور آر جے ڈی نے کانگریس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر وزیراعلیٰ کا عہدہ چوری کیا ہے۔
وزیراعظم مودی نے اتوار کے روز آرہ میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’نامزدگی واپس لینے سے ایک دن پہلے بہار میں بند کمرے میں غنڈہ گردی کا کھیل کھیلا گیا۔ کانگریس کے سر پر پستول رکھ کر آر جے ڈی لیڈر کو وزیراعلیٰ کے امیدوار کے طور پر اعلان کروایا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ آر جے ڈی اور کانگریس میں اختلافات اب اس حد تک بڑھ گئے ہیں۔ نہ منشور میں کانگریس کی سنی گئی، نہ انتخابی مہم میں ان کی کوئی حیثیت رہی۔ انتخابات سے پہلے ہی اتنی نفرت پیدا ہو چکی ہے کہ انتخابات کے بعد یہ ایک دوسرے کے سر پھوڑیں گے۔ ایسے لوگ بہار کا بھلا کبھی نہیں کر سکتے۔
وزیراعظم نے آر جے ڈی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’ایک طرف این ڈی اے کا سشاسن ہے، تو دوسری طرف آر جے ڈی کا جنگل راج۔ جنگل راج وہ اندھیرا تھا جس نے بہار کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ آر جے ڈی کے جنگل راج کی پہچان ہے، ‘کٹّا، کرورتا، کٹوتا، کُسنکار، کُشاسن اور کرپشن’ (پستول، ظلم، تلخی، بدتہذیبی، بدانتظامی اور بدعنوانی)۔‘
وزیراعظم مودی نے الزام لگایا کہ آر جے ڈی نے بہار میں تُشٹیکرن کی سیاست کی، جبکہ کانگریس کی پہچان 1984 کے سکھ مخالف فسادات سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ1 اور 2 نومبر 1984 کو کانگریس کے لوگوں نے سکھوں کا قتلِ عام کیا تھا، اور آج کی کانگریس انہی گناہگاروں کو عزت کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔
آخر میں مودی نے کہا کہ چاہے کانگریس ہو یا آر جے ڈی، دونوں کو اپنے گناہوں پر کوئی شرمندگی نہیں۔ یہ پارٹیاں بہار کی شناخت مٹانے میں لگی ہیں۔ یہ لوگ گھس پیٹھیوں کے حق میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور انہیں بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


