گرو نانک جینتی یعنی پرکاش پرب کے موقع پر 2100 سکھ یاتریوں کو پاکستان جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اس کی اطلاع دی۔ پاکستانی ہائی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی دہلی میں قائم پاکستان ہائی کمیشن نے سکھ یاتریوں کو گرو نانک کے جنم اتسو میں شرکت کے لیے 2100سے زیادہ ویزے جاری کیے ہیں۔ یہ اتسو چار سے تیرہ نومبر 2025 تک پاکستان میں منعقد کیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ 1974 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے پروٹوکول کے تحت ان یاتریوں کو پاکستان بھیجا جائے گا۔ یہ عقیدت مند اٹاری-واہگہ سرحد کے راستے ننکانہ صاحب، کرتارپور صاحب اور دیگر مقدس گردواروں کے درشن کریں گے۔
2019 میں کرتارپور کوریڈور کھولا گیا تھا
2019 میں کرتارپور کوریڈور سکھ یاتریوں کے لیے ویزا سے آزاد سفر کی غرض سے کھولا گیا تھا۔ اس راستے سے گردوارہ دربار صاحب تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ کرتارپور صاحب گردوارے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ 2019 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت بھارتی نژاد تمام یاتری اس کوریڈور کا استعمال کر سکتے ہیں۔
گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی گردوارے میں گزارے تھے
دراصل، گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی گردوارے میں گزارے تھے۔ یہ گردوارہ دونوں ممالک کے لیے انتہائی عقیدت اور احترام کا مرکز ہے۔ پرکاش پرب کے موقع پر سکھ عقیدت مند بھارتی حکومت کی اجازت سے یہاں درشن کے لیے آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان پر کئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ آبی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے حملے بھی ہوئے۔ بھارت نے’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان کے نو مقامات پر کاری ضرب لگائی تھی۔ ایسے میں اس یاترا کو سلامتی کے نقطۂ نظر سے انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

