نئی دہلی: دلی کے شاندار صدفراجنگ ٹومب کے گرد اس اکتوبر میں شاعری اور موسیقی کی بازگشت گونجی، جب سبھیتا فاؤنڈیشن اور سرینڈیپیٹی آرٹس نے مل کر سرینڈیپیٹی آرٹس فیسٹیول کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن ’شامِ غزل‘ کے ساتھ منایا۔ یہ ایسی شام تھی جو غزل کے عظیم فنکاروں کی لازوال تخلیقات کے لیے مخصوص تھی۔ یہ پروگرام وزارتِ ثقافت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی معاونت سے منعقد ہوا، تاکہ بھارت کے تاریخی مقامات کو فروغ دیا جا سکے اور زائرین کو ثقافتی پروگرامنگ کے ذریعے مشغول کیا جا سکے۔ اس موقع پر چيف گیسٹ وزیر برائے ثقافت و سیاحت گجندر سنگھ شیکھاوت، اور دہلی حکومت میں وزیر برائے فنون و ثقافت کپِل مشرا، سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
ثقافتی تبادلے کی دہائی کا سفر
سرینڈیپیٹی آرٹس کے 10 سالہ جشن کی مناسبت سے، دہلی میں شامِ غزل پروگرام، سرینڈیپیٹی آرٹس کی کثیر شہر تقریبات کا حصہ تھا جس نے ثقافتی تبادلے، فنکارانہ جستجو اور تعاون کی طاقت کو اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں، یہ تہوار برمنگھم، احمد آباد، وارانسی، چنئی، پیرس اور دبئی جیسے شہروں میں بھی منعقد ہوا۔ اس خاص سال کا اختتام گووا میں 12–21 دسمبر 2025 کے دوران ہونے والے سب سے بڑے ایڈیشن کے ساتھ ہوگا، جس میں 35 سے زائد کوریٹرز اور بے مثال کثیر الشعبہ منصوبے شامل ہوں گے۔
شامِ غزل: کلاسک سے جدید تک
اس پروگرام، جسے اصل میں سرینڈیپیٹی آرٹس فیسٹیول 2024 کے لیے تبلہ کے ماہر بکرم گھوش نے ترتیب دیا تھا، میں پرتیبھا سنگھ بگھل اور پرتھوی گندھرو نے اپنی دلکش آوازیں پیش کیں۔ اس شام میں غزل کے عظیم فنکاروں جیسے غلام علی، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان، پنکج اُدھاس اور جگجیت سنگھ کے کاموں کو خراج تحسین پیش کیا گیا، اور ان کے ادبی ورثے کو زندہ کیا گیا۔ محبت، جدائی اور آرزو جیسے موضوعات کو عصری اور روایتی موسیقی کے امتزاج کے ذریعے پیش کیا گیا، جو حاضرین کے لیے ایک گہرائی سے جڑی ہوئی تجرباتی موسیقی تھی۔
فن اور ثقافت کی تعریف
سرینڈیپیٹی آرٹس کے بانی و سرپرست سنیل کانت منجل نے کہا، ’’سرینڈیپیٹی آرٹس کے دس سال مکمل ہونے پر ہمارا وژن ہمیشہ فن کی بہترین روایت، تعاون اور ثقافتی تبادلے کے جذبے میں جڑا رہا ہے۔ ہر ایڈیشن کے ذریعے ہم نے ایسے مواقع پیدا کیے جہاں فن لوگوں، جگہوں اور خیالات کو جوڑتا ہے۔ اس دہائی کے دوران ہم نے گووا میں 300,000 مربع فٹ کے رقبے کو تخلیقی کینوس میں تبدیل کیا، سینکڑوں ابھرتے ہوئے فنکاروں کو سپورٹ کیا، اور تہوار کا جذبہ دنیا کے دیگر شہروں تک پہنچایا۔ صفدرجنگ ٹومب میں شامِ غزل اسی جذبے کی عکاسی ہے، جہاں تاریخ اور عصری فن یکجا ہوتے ہیں اور ورثہ تخلیقی اسٹیج میں بدل جاتا ہے۔ سبھیتا فاؤنڈیشن کے ساتھ یہ تعاون یہ یقین دلاتا ہے کہ تاریخی مقامات صرف ماضی کے آثار نہیں، بلکہ ایسے متحرک مقامات ہیں جو نئی تخلیقی اور مکالماتی شکلیں پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘
سرینڈیپیٹی آرٹس کی سرپرست شیفالی منجل نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے کہا، ’’اس تجربے کے ذریعے ہم دہلی کی تاریخی اور ثقافتی میراث کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاریخی مقامات صرف ماضی کے آثار نہیں، بلکہ وہ متحرک جگہیں ہیں جو نئی تخلیقی اور مکالماتی جہتیں پیدا کر سکتی ہیں۔ جب فن ایسی جگہ پر زندہ ہوتا ہے، تو یہ پلیس میکنگ کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے اور عوامی مقامات کو متحرک ثقافتی مرکز میں بدل دیتا ہے۔‘‘
ورثہ اور عصری عمل
سبھیتا فاؤنڈیشن اور سرینڈیپیٹی آرٹس نے صدفرجنگ ٹومب میں منفرد ثقافتی تجربہ پیش کیا، جس کا مقصد فن، ثقافت اور تاریخی ورثے کو فروغ دینا تھا۔ پروگرام نے اس مقبرے کو محض تاریخی جگہ کے بجائے ایک ایسا اسٹیج بنایا جہاں فنکارانہ اظہار اور عصری عمل ایک دوسرے میں گھل مل جائیں۔
اس پروگرام میں شامل ڈالمیہ بھارت لمیٹڈ کے ایم ڈی اور سی ای او اور سبھیتا فاؤنڈیشن کے سرپرست پونیت ڈالمیہ نے کہا، ’’ہمارے تاریخی مقامات میں بے پناہ جمالیات اور ثقافتی اہمیت ہے، جو ہم سب میں فخر اور جذبات پیدا کرتے ہیں۔ سبھیتا فاؤنڈیشن کا مقصد یہ ہے کہ یہ مقامات ہمارے شہریوں کے لیے ثقافتی آغاز، تعلیم، مشغولیت اور تحریک کے قائم مقام رہیں۔ صدفراجنگ ٹومب میں ہمارا پروگرام بھارت کی میراث اور ثقافت کی حفاظت اور ترویج کا ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔‘‘
گووا کی دعوت
یہ شام دلی کی روشن چاندنی رات میں جاری رہی، اور شامِ غزل نے نہ صرف غزل کے فن کی خراج عقیدت پیش کیا بلکہ سرینڈیپیٹی آرٹس کے 10 سالہ سفر کا پیش خیمہ بھی بن گئی، اور دنیا بھر کے ناظرین کو گووا میں 12–21 دسمبر 2025 ہونے والے سب سے بڑے ایڈیشن میں مدعو کیا۔ اس ایڈیشن میں 150 سے زائد منصوبے شامل ہوں گے، جن میں پرفارمنگ، بصری، کھانوں اور دستکاری کے فنون شامل ہیں۔
سبھیتا فاؤنڈیشن، ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جو بھارت کے فن، ثقافت، ورثے اور فنِ تعمیر کے فروغ اور تحفظ کے لیے عالمی معیار کے تجربات فراہم کرنے کے لیے وقف ہے۔ سمرک سارَتھی اور ڈالمیا بھارت لمیٹڈ کے اشتراک سے، فاؤنڈیشن نے تاریخی لال قلعے پر وزیٹر انگیجمنٹ کو ایک نئی جہت دی ہے، اپنی نمایاں پہلوں کے ذریعے جیسے کہ ’جے ہند‘ ساؤنڈ اینڈ لائٹ شو (جسے نیشنل جیوگرافک نے دنیا کے پانچ بہترین شوز میں شمار کیا ہے)، ریڈ فورٹ وزیٹر سینٹر، اور ماتر بھومی پروجیکشن میپنگ۔ اڈاپٹ اے ہیریٹیج 2.0 پروگرام کے تحت، سبھیت فاؤنڈیشن کو دہلی کی چار تاریخی جگہوں — پرانی قلعہ، ہمایوں کا مقبرہ، صفدر جنگ کا مقبرہ اور مہرولی آرکیالوجیکل پارک کی دیکھ بھال اور فروغ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
فاؤنڈیشن کو مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے اورچھا کو ایک ممتاز ہیریٹیج ٹورزم منزل کے طور پر پیش کرنے کے لیے ترجیحی شراکت دار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ سبھیتا فاؤنڈیشن نے بھارت کے ثقافتی ورثے کا بڑے پیمانے پر جشن منایا ہے، جیسے کہ ’ڈانسز آف انڈیا‘ اور ’بھارت بھاگیہ ودھاتا – آزادی کا امرت مہوتسو فیسٹیول‘، جن میں جی-20 صدارت کے دوران مختلف ثقافتی پروگراموں کی ترتیب و پیشکش شامل تھی۔ اس کے علاوہ، فاؤنڈیشن نے مہابھارت اور نوراتری نائٹ ایٹ پرانا قلعہ جیسے موسیقی اور تھیٹر پر مبنی شوز بھی پیش کیے ہیں، جنہوں نے اب تک 2,50,000 سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

