سانے تاکائچی کو منگل کو جاپان کی پارلیمنٹ میں ایک اہم انتخاب کے بعد وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے ہوا جس میں انہوں نے کامیابی حاصل کرکے جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا اعزاز پایا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جاپان کی سیاست میں پہلی بار کسی خاتون کو یہ منصب ملا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے دی مبارکباد
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کے ذریعے تاکائچی کو جیت کی مبارکباد دی اور کہا کہ سانے تاکائچی، جاپان کی وزیر اعظم منتخب ہونے پر آپ کو دلی مبارکباد۔ میں بھارت اور جاپان کی خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ ہمارے گہرے تعلقات ہند-پیسیفک اور اس کے علاوہ امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
この度、日本国総理大臣に就任された高市早苗氏に心からお祝い申し上げます。日印両国が築き上げた特別戦略的グローバルパートナーシップのさらなる進化に向け、緊密に連携していくことを楽しみしています。より強固な日印関係は、インド太平洋地域また域外地域における平和と安定、繁栄を実現する上で…
— Narendra Modi (@narendramodi) October 21, 2025
سانے تاکائچی کا سیاسی سفر
سانے تاکائچی کا سیاسی سفر کافی دلچسپ رہا ہے۔ تاکائچی 3 مارچ 1961 کو پیدا ہوئیں اور جاپان کی قدیم دارالحکومت نارا میں پرورش پائی۔ ان کے والد ایک کمپنی میں سیلز مین کا کام کرتے تھے جبکہ والدہ نارا پولیس میں تھیں۔ تاکائچی نے کوبے یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ماتسوشیتا انسٹی ٹیوٹ آف گورنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1993 میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر اپنا پہلا انتخاب جیتنے سے پہلے انہوں نے کچھ عرصہ ایک نیوز اینکر کے طور پر بھی کام کیا۔ دنیا میں اپنی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کم ہوتی ہوئی آبادی کے لیے مشہور جاپان میں ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ جاپان میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ منگل کے روز جاپان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے سانے تاکائچی کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ تاکائچی کو جاپانی سیاست میں ایک سخت رویے والی قدامت پسند لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ چین کے خلاف سخت مؤقف کے لیے بھی مشہور ہیں۔ جاپان کی پارلیمنٹ دو ایوانوں پر مشتمل ہے، اعلیٰ ایوان اور زیریں ایوان۔ دونوں ایوانوں نے تاکائچی کو اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ اعلیٰ ایوان میں انہیں 125 ووٹ ملے جو ضروری اکثریت سے صرف ایک ووٹ زیادہ تھے۔ زیریں ایوان میں انہیں 237 ووٹ ملے جو ضروری اکثریت سے زیادہ تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


