بالی ووڈ اداکارہ شپلا شیٹی اور راج کندرا کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)
بالی ووڈ جوڑے شلپا شیٹی اورراج کندرا کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ اس جوڑے پرایک شخص نے 60 کروڑ کی دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہے۔ اس کیس میں بامبے ہائی کورٹ سے شلپا شیٹی کو راحت نہیں ملی ہے۔ شلپا شیٹی کوملک سے باہرجانا تھا، مگر عدالت نے انہیں کولمبو جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔
شلپا شیٹی اور راج کندرا کے خلاف ای اوڈبلیونے ایل او سی جاری کیا تھا۔ اسی وجہ سے اب دونوں جانچ ایجنسی یا عدالت کی اجازت کے بغیر ملک سے باہرنہیں جاسکتے۔ شلپا شیٹی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ شلپا شیٹی کو یوٹیوب کے ایک ایونٹ کے لئے کولمبو جانا ہے۔ یہ ایونٹ 25 اکتوبر سے 29 اکتوبرتک ہے۔
عدالت نے دی سخت وارننگ
جب عدالت نے وکیل سے پوچھا- ان کے پاس کوئی دعوت نامہ ہے، اس پرشلپا کے وکیل نے کہا کہ جب تک سفرکرنے کی اجازت نہیں مل جاتی تب تک دعوت نامہ نہیں ملے گا، صرف فون پربات چیت ہوئی ہے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ پہلے دھوکہ دہی کے الزام کے 60 کروڑ دیجئے، پھراس پرغورکیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اب اس معاملے میں آئندہ سماعت 14 اکتوبر کو رکھی گئی ہے۔ کچھ وقت پہلے ای او ڈبلیو نے راج کندرا کا بیان تقریباً 5 گھنٹوں تک درج کیا تھا۔ اپنا بیان درج کروانے کے بعد راج کندرا نے اپنا ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں حال ہی میں اقتصادی جرائم ونگ (ای اوڈبلیو) کے ذریعہ درج ایف آئی آر سے واقف ہوں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جانچ کے ہرفیز میں میں نے افسران کے ساتھ پورا تعاون کیا ہے اور کمپنی کے دسمبر 2016 میں لیکوڈیشن میں جانے کے بعد بھی سبھی طلب کئے گئے دستاویز دستیاب کرائے ہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
بزنس مین دیپک کوٹھاری کی شکایت کی بنیاد پر60 کروڑروپئے کی دھوکہ دہی کی کارروائی کی گئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ سال 2015 اور2023 کے درمیان، انہوں نے شلپا شیٹی اورراج کندرا کی تبدیل شدہ بیسٹ ڈیل ٹی وی پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی میں کاروبار کی توسیع کے لئے 60.48 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




