نیپال اس وقت سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ ملک میں سوشل میڈیا ایپس پر پابندی کے بعد بھڑکی عوامی ناراضگی نے شدید تشدد کی صورت اختیار کر لی، جس میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی پس منظر میں پی ایم کے پی شرما اولی نے منگل (9 ستمبر) کوپی ایم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن وہ فی الحال کہاں ہیں، اس حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔پرتشدد مظاہرین نے کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی، جب کہ بدھ (10 ستمبر) کی صبح دارالحکومت کٹھمنڈو کی سڑکوں پر خاموشی اور خوف کا عالم چھایا رہا۔
کیا اولی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں؟
VIDEO | Kathmandu: Latest visuals show empty streets and burned-out buildings a day after Nepalese Prime Minister KP Sharma Oli resigned amid massive anti-government protests.#Nepal
(Full video available on PTI Videos – https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/Izx4clDx6Q
— Press Trust of India (@PTI_News) September 10, 2025
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کے پی شرما اولی ممکنہ طور پر دبئی فرار ہو سکتے ہیں، لیکن ابھی تک ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی ہے۔نیپالی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اولی اس وقت کٹھمنڈو کے ایک محفوظ مقام میں چھپے ہوئے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ تری بھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک پروازیں فی الحال منسوخ ہیں۔ ملک کی باگ ڈور فوج کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے، اور کٹھمنڈو کی سڑکوں پر فوجی گشت کر رہے ہیں۔
اولی کے گھر کو مظاہرین نے لگائی آگ
مظاہرین نہ صرف سرکاری دفاتر میں گھس گئے بلکہ کئی وزراء کو سڑکوں پر مارا پیٹا۔مظاہرین کے پی شرما اولی کے بھکتاپور میں واقع ذاتی گھر تک جا پہنچے اور گھر کو نذرِ آتش کر دیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت تک اولی مبینہ طور پر اپنے خاندان کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے تھے۔
قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی خفیہ اور محفوظ مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔نیپال کے سب سے مقدس مذہبی مقامات بدھ کے روز عوام کے لیے بند کر دئے گئے ہیں، تاکہ ان مقامات کو کسی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
دارالحکومت میں سناٹا، کرفیو نافذ
بدھ کی صبح کٹھمنڈو میں سڑکیں تقریباً سنسان نظر آئیں۔لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
بھار ت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


