سینئرصحافی جیلانی خان کا انتقال ہوگیا۔
نئی دہلی: سینئرصحافی اورروزنامہ’انقلاب‘ لکھنؤ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرجیلانی خان انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سینئرصحافی جیلانی خان پچھلے کافی عرصے سے بیمارچل رہے تھے اوران کا علاج بھی جاری تھا۔ آج صبح وہ دارفانی سے کوچ کرگئے۔ جیلانی خان کا انتقال صحافت کے لئے بالخصوص اردو صحافت کے لئے بڑا خسارہ ہے۔ جیلانی خان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پرلوگ تعزیت پیش کررہے ہیں اورکم عمری میں دنیا سے رخصت ہونے پرافسوس اظہارکررہے ہیں۔ سوشل میڈیا پرروزنامہ ’انقلاب‘کے ایڈیٹراورسینئرصحافی ودود ساجد کی بھی ستائش کی جا رہی ہے، جنہوں نے جیلانی خان کی بیماری کے وقت علاج کے لئے خاص خیال رکھا اوران کے ساتھ کھڑے رہے۔
سینئرصحافیوں کا اظہار رنج وغم
روزنامہ ’انقلاب‘ نارتھ انڈیا کے ایڈیٹرودود ساجد، سینئرصحافی معصوم مرادآبادی وغیرہ نے سوشل میڈیا پران کے انتقال کے بعد گہرے رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔ بھارت ایکسپریس اردوکے ایڈیٹرڈاکٹرخالد رضا خان، سینئر صحافی سراج نقوی، روزنامہ سیاسی تقدیرکے ایڈیٹر محمد مستقیم خان، روزنامہ ’انقلاب‘ دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹرڈاکٹریامین انصاری کے علاوہ بڑی تعداد میں سینئراورنوجوان صحافیوں نے تعزیت پیش کی ہے۔ بھارت ایکسپریس اردو کی پوری ٹیم جیلانی خان کے انتقال پرتعزیت پیش کرتی ہے۔
سینئرصحافی معصوم مرادآبادی کا جذباتی پوسٹ
معصوم مرادآبادی نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کے انتقال کی خبردیتے ہوئے لکھا، جیلانی خان کے اسپتال، دفتراورگھر ان کے تین پڑاؤ تھے، مگران کی قوت ارادی دیکھ کرمجھے یوں لگتا تھا کہ وہ دیرسویراپنی بیماری پرقابو پالیں گے، مگرایسا نہیں ہوسکا اوروہ جواں عمری ہی میں وہاں چلے گئے، جہاں سے کوئی واپس آتا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بہارکے گیا ضلع سے تھا جیلانی خان کا تعلق
واضح رہے کہ جیلانی خان کا تعلق بہارکے ضلع گیا سے تھا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرکے اردوصحافت کو اپنایا تھا۔ شروعات روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ سے کی۔ وہ ’راشٹریہ سہارا‘ حیدرآباد کے بھی انچارج رہے۔ انہوں نے’راشٹریہ سہارا‘ چھوڑکر روزنامہ ’انقلاب‘ سے وابستگی اختیارکی اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پراس کے ریزیڈنٹ ایڈیٹربنائے گئے۔ انھوں نے اپنی صلاحیتوں کے نقوش چھوڑے۔ وہ جب تک صحت مند رہے ’انقلاب‘ کے لیے باقاعدہ کالم بھی لکھتے رہے۔ بہرحال موت برحق ہے اورہم سب کواس کا مزہ چکھنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



