رپورٹ میں حوثی وزیر اعظم کو قتل کرنے کا دعویٰ۔
صنعا: یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے وزیر اعظم احمد الرھوی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یمنی ذرائع ابلاغ الجمہریہ اور عدن الغد نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد الرھوی جمعے کے روز صنعا میں ایک اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بھی اطلاع ہے کہ اس حملے میں احمد الرھوی کے کئی ساتھی بھی مارے گئے ہیں۔ حالانکہ، اسرائیل نے ابھی تک ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کی تصدیق
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے جمعے کے روز تصدیق کی ہے کہ ان کی فضائیہ نے یمن کے شہر صنعا کے قریب حوثیوں کے فوجی ٹھکانے پر ایک درست حملہ کیا۔ اس سے پہلے دن میں دو ڈرونز کو روکا گیا۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دفتر کے مطابق، اس مشن کی منظوری وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر اور دیگر اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ ریڈ لائن مواصلاتی نظام کے ذریعے دی گئی۔
صرف سیاسی لیڈران کو بنایا نشانہ
اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا، ’’اندھیرے کی آفت کے بعد پہلوٹھے کی آفت آتی ہے۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا ہدف حوثی گروپ کے اعلیٰ سطح کے لیڈر ہو سکتے ہیں۔ یہ کچھ اسرائیلی میڈیا رپورٹس سے بھی میل کھاتا ہے جو اس سے قبل آئی تھیں، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ کے صرف سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حوثیوں نے دعوؤں کو کیا مسترد
حالانکہ، حوثیوں نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اسرائیل پر شہری انفراسٹرکچر پر حملے کا الزام لگایا اور اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
یمن نے حملے کو کہا ’جنگی جرم‘
یمن کی صحت عامہ اور آبادی کی وزارت نے اس حملے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا۔ ادھر چند روز قبل حوثیوں نے جنوبی اسرائیل پر میزائل فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی جسے اسرائیلی دفاعی فورسز نے کامیابی سے ناکام بنا دیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

