دہلی کی عدالت کا بڑا فیصلہ
نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے 2019 میں ایک نابالغ لڑکے کی عصمت دری کرنے کے جرم میں ایک شخص کو 15 سال کی سخت قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے کہا کہ صرف لڑکیوں کا ہی جنسی استحصال ہونا ایک ’متھک‘ ہے کیونکہ لڑکے بھی اس گھناؤنے جرم کے لیے اتنے ہی حساس ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج انو اگروال اس شخص کے خلاف سزا پر دلائل کی سماعت کر رہی تھیں، جسے POCSO ایکٹ کی دفعہ 6 (بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی) اور آئی پی سی کی دفعہ 377 (غیر فطری جرم) کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا۔
حال ہی میں دستیاب ہونے والے 31 جولائی کے ایک حکم میں، عدالت نے کہا، ’’لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح ہی جنسی زیادتی اور استحصال کو لے کر حاساس ہوتے ہیں، اور وہ بھی جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرم کے لیے اتنے ہی حساس ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صرف لڑکیوں کو ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، یہ ایک متھ ہے۔‘‘
دلائل کے دوران، ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ارون کے وی نے خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزارت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا کہ تقریباً 54.68 فیصد بچے جنسی زیادتی کے شکار لڑکے ہیں۔
’’لڑکے بھی جنسی زیادتی کے تئیں ہوتے ہیں حساس‘‘
انہوں نے کہا کہ لڑکے بھی جنسی زیادتی کے تئیں یکساں طور پر حساس ہوتے ہیں اور لڑکیوں کی طرح ہی شدید نفسیاتی صدمے کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ POCSO ایکٹ سبھی بچوں کو، چاہے ان کا جنس کچھ بھی ہو احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جنسی زیادتی کے شکار لڑکے کو جو ذہنی صدمے پہنچتا ہے، وہ دوسرے جنسی استحصال کے شکار متاثر کی طرح ہی ہوتا ہے۔ وہ خوف، فلیش بیکس کا تجربہ کرتے ہیں اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر سے گزرتے ہیں۔‘‘
عدالت نے مزید کہا کہ سماجی فریم ورک میں، جہاں مردانگی کو جذباتی طاقت کے ساتھ غلط طریقے سے جوڑا جاتا ہے، لڑکوں کے لیے جنسی زیادتی کی وجہ سے ہونے والے ذہنی صدمے سے نمٹنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اس نے کہا، ’’سماجی ڈھانچے کی وجہ سے، وہ شرم محسوس کرنے لگتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ وہ کافی مضبوط نہیں ہیں، اور اس کا اثر بچے کی مجموعی نفسیاتی صحت پر پڑتا ہے۔‘‘
متاثر کو 10.5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی ہدایت
قید کی سزا کے علاوہ، اس شخص کو ایک ماہ کے اندر لواحقین کو 2 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے ریاست کو نابالغ متاثر کو 10.5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کی بھی ہدایت دی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




