یوپی کے فتح پورکے آبونگرریڈئیا میں سینکڑوں سال پرانے نواب عبدالصمد کے مقبرہ میں ہندوشدت پسند تنظیموں کے ذریعہ توڑ پھوڑکئے جانے کے بعد معاملہ کافی سرخیوں میں ہے۔ مقبرہ میں توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اورپوجا پاٹھ کرنے کے بعد پولیس اورضلع انتظامیہ حرکت میں آگئی ہے اورامن وامان کویقینی بنانے کے لئے مقبرے کے ایک کلومیٹرکے دائرے میں سبھی سڑکیں بند کردی گئی ہیں۔ ہنگامہ کرنے والے ہندو شدت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ کئی صدی قدیم نواب عبدالصمد کا مقبرہ جہاں واقع ہے، وہاں پہلے کبھی مندر ہوا کرتا تھا۔ اس حادثہ کے بعد پولیس اورضلع انتظامیہ نے مقبرے کے ایک کلومیٹرکے دائرے میں ان سبھی سڑکوں کو بند کردیا ہے، جو مقبرے تک پہنچتی ہے۔
علاقے کی ڈرون سے کی جا رہی ہے نگرانی
افسرنے بتایا کہ اب یہ علاقہ مسلسل ڈرون نگرانی میں ہے اورمقبرے کے منہدم کئے گئے حصوں کی مرمت کل رات پوری ہوگئی ہے۔ فتح پورکے پولیس سپرنٹنڈنٹ انوپ کمارسنگھ نے کہا، ’’سخت نگرانی رکھی جارہی ہے اورپورا علاقہ اب مسلسل ڈرون نگرانی میں ہے۔ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
پڑوسی اضلاع سے بلائی گئی پولیس فورس
دریں اثناء ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (پریاگ راج) سنجیوگپتا نے پیرکی رات جائے وقوعہ کا دورہ کیا اورپولیس اورضلع انتظامیہ کے عہدیداروں سے پورے معاملے پرتبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے معاملے کوخوش اسلوبی سے حل کرنے اورمزید گڑبڑی کوروکنے کے لیے حکمت عملی تیارکی۔ سنجیوگپتا نے سیکورٹی کومضبوط بنانے کے لیے پڑوسی اضلاع کوشامبی اورپریاگ راج سے اضافی فورس بلانے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے پیرکے روزعلاقے میں فلیگ مارچ بھی کیا۔ ضلع مجسٹریٹ کولکھے گئے ایک خط میں، علماء کونسل نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اورکچھ تنظیموں پرمندرکے دعووں کے بہانے ایک تاریخی یادگارکونقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے شرپسندی اورہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اورقومی ورثہ کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




