Bharat Express DD Free Dish

Uttar Pradesh Flood Crisis: یوپی کے 17 اضلاع میں سیلاب نے مچائی تباہی، 11 لوگوں کی موت،کئی شہروں میں اسکول بند

یوپی میں سیلاب نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ریاست کے 17 اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ لکھنؤ، ایودھیا، اور امبیڈکر نگر میں جماعت 12 تک کے تمام اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں بارش کی وجہ سے ریاست میں 11افراد کی جان جا چکی ہے۔

ملک بھر میں مانسون کی آمد نے موسم کا مزاج مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اتر پردیش سمیت شمالی بھارت کے مختلف علاقوں میں مسلسل بارش اور اس کے نتیجے میں دریاؤں  ، ندیوںکی سطح بلند ہونے سے کئی شہروں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ سنگم نگر الہ آباد (پریاگ راج) کے علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں جب کہ وارانسی سمیت کئی دیگر شہروں میں ندیاں خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں۔

یوپی کی کئی ریاست ندیوں کے کنارے آباد 17 اضلاع میں بارش نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ اتوار کو مختلف اضلاع میں بارش کی وجہ سے 9 افراد ہلاک ہوئے۔ پیر کی صبح، ضلع سیتاپور میں دیوار گرنے سے دو کم سن لڑکیاں جاں بحق ہو گئیں۔ ان ہلاکتوں کو شامل کر کے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش سے 11 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ شدید بارش کے پیش نظر، لکھنؤ سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

84 ہزار سے زائد افراد متاثر

سیلاب سے اب تک 84,392 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 47,906 افراد کو حکومت کی جانب سے امدادی سامان فراہم کیا جا چکا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے 2,759 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ 343 گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 327 متاثرین کو مالی امداد دی جا چکی ہے۔

یوپی کے 17 اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں

ریاست کے 17 اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں، جن میں سے 16 اضلاع میں گنگا اور یمنا ندیوں کی طغیانی نے تباہی مچائی ہے۔ الہ آباد سے بلیا تک گنگا کے کنارے واقع علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں۔ الہ آباد شہر کے سلوری، راجاپور، داراگنج، بگھرا جیسے علاقے مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ مرزاپور، وارانسی، چندولی، اور بلیا کے حالات بھی تشویشناک ہیں، لیکن سب سے زیادہ اثر پریاگ راج میں دیکھنے کو ملا ہے۔ جس سنگم نگر میں سات ماہ پہلے قدم رکھنے کی جگہ نہ تھی، آج وہاں صرف پانی ہی پانی ہے۔ سنگم کا پورا علاقہ — شمال، جنوب، مشرق اور مغرب — ایک سمندر کا منظر پیش کر رہا ہے۔

یوپی میں سیلاب نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ریاست کے 17 اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ لکھنؤ، ایودھیا، اور امبیڈکر نگر میں جماعت 12 تک کے تمام اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں بارش کی وجہ سے ریاست میں 11افراد کی جان جا چکی ہے۔

گنگا کا پانی گھروں میں داخل

وارانسی اور الہ آباد میں گنگا کا پانی ایک لاکھ سے زائد گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ گنگا کی سطح خطرے کے نشان سے تجاوز کر چکی ہے۔ وارانسی کے تمام 84 گھاٹ پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ الہ آباد میں سڑکوں پر کشتیاں چل رہی ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنا گھر چھوڑ چکے ہیں۔

پریاگ راج کا رسول آباد گھاٹ بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکا ہے۔ گھاٹوں پر موجود مندروں میں پانی داخل ہو چکا ہے۔ بگھررا سے ایک تصویر سامنے آئی ہے، جس میں ایک جوڑا اپنے نوزائیدہ بچے کو بچانے کے لیے کمر تک پانی میں سے گزر رہا ہے۔ الہ آباد شہر میں گنگا کا قہر جاری ہے۔ سنگم کے بعد جب گنگا آگے بڑھتی ہے تو پانی کی مقدار دوگنی ہو جاتی ہے۔ گنگا کے اس پار کے ہنڈیا اور یمنا پار کے میجا علاقے کے کئی گاؤں بھی متاثر ہیں۔

حکومت کی جانب سے اقدامات

سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 11 وزراء کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے، جو اپنے اپنے علاقوں میں جا کر امدادی کاموں کی نگرانی کر رہی ہے۔ وزیر نند گوپال گپتا کو الہ آباد اور مرزاپور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read