چندن مشرا قتل معاملہ
پٹنہ: مشہور چندن مشرا قتل کیس میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ کولکتہ کے آنند پور کے ایک گیسٹ ہاؤس سے کلیدی ملزم توصیف عرف بادشاہ سمیت کل چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق، سبھی کو کولکتہ پولیس ہیڈکوارٹر لالبازار لے جایا گیا ہے، جہاں ان سے گہرائی سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ حالانکہ، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ تمام ملزمین کا براہ راست پٹنہ کیس سے تعلق ہے یا نہیں۔
17 جولائی کو چندن مشرا کو ماری گئی تھی گولی
آپ کو بتا دیں کہ 17 جولائی کو چندن کمار مشرا کو پٹنہ کے شاستری نگر تھانہ علاقے میں واقع پارس اسپتال میں گولی مار دی گئی تھی، جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی تھی۔ اس سنسنی خیز واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔
کولکتہ پولیس اور STF کی مدد سے چھاپہ ماری
پٹنہ پولیس نے تکنیکی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، ان پٹ اور دیگر پہلوؤں پر گہرائی سے تفتیش کی۔ اسی سلسلے میں کولکتہ پولیس اور ایس ٹی ایف کی مدد سے کولکتہ میں چھاپے مارے گئے اور کلیدی ملزم توصیف عرف بادشاہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے علاوہ نِشو خان اور ایک اور شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
کیس سے جڑے ہر پہلو کی گہرائی سے تفتیش
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ قتل کی سازش نشو خان کی رہائش گاہ پر رچی گئی اور یہ جرم بنیادی طور پر توصیف نے انجام دیا۔ پولیس اب دیگر مشتبہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے اور اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ملزمان کو پٹنہ لانے کی تیاری میں بہار پولیس
بہار پولیس نے کہا کہ پٹنہ پولیس تمام ملزمان کو مناسب کارروائی کے تحت پٹنہ لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پورے معاملے میں کولکتہ پولیس اور ایس ٹی ایف کا تعاون انتہائی قابل ستائش تھا۔ کولکتہ پولیس کی طرف سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے پٹنہ پولیس کو مسلسل تمام ضروری مدد فراہم کی۔
پارس اسپتال میں چندن مشرا کو ماری گئی گولی
آپ کو بتا دیں کہ بہار کے بدنام زمانہ مجرم چندن مشرا جیل میں بند تھا، لیکن اس کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے پارس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں اس کا علاج چل رہا تھا۔ اس دوران مجرموں نے چندن مشرا کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


