Bharat Express DD Free Dish

Monsoon wreaks havoc in Pakistan: پاکستان میں مانسون نے مچائی تباہی، 200 سے زائد افراد ہلاک، کئی علاقوں میں صورتحال سنگین

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 25 جولائی تک ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ حالانکہ، بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں سیلاب سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 21 سے 24 جولائی تک وسطی اور شمالی علاقوں میں درمیانی سے موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

پاکستان میں مانسون نے مچائی تباہی

اسلام آباد: پاکستان میں مانسون کی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اب تک 202 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق 96 بچوں کی ہلاکت نے صورتحال کی وحشت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

صوبہ پنجاب میں ہوئیں سب سے زیادہ 123 اموات

سب سے زیادہ 123 اموات صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 40، سندھ میں 21، بلوچستان میں 16 اور اسلام آباد اور جموں و کشمیر میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا ہے۔ ہلاکتوں کی وجہ سیلاب، منہدم عمارتیں، بجلی کے جھٹکے، آسمانی بجلی گرنے اور لینڈ سلائیڈ بتائی جا رہی ہے۔ گرنے والی عمارتوں کے ملبے تلے دب کر 118 افراد ہلاک ہوئے، سیلاب میں 30 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر ڈوبنے، آسمانی بجلی گرنے، بجلی کے جھٹکے اور لینڈ سلائیڈ سے ہلاک ہوئے۔

NEOCنے پورے ملک کیلئے جاری کی وارننگ

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے پورے ملک کے لیے وارننگ جاری کی ہے، جو 25 جولائی تک نافذ العمل رہے گی۔ اس میں سیلاب، شہری پانی جمع ہونے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے کا خطرہ بتایا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد کے کئی اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو نالوں کی صفائی اور ایمرجنسی ٹیموں کو تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بڑی ندیوں کے بالائی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 25 جولائی تک ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ حالانکہ، بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں سیلاب سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 21 سے 24 جولائی تک وسطی اور شمالی علاقوں میں درمیانی سے موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔

درجنوں علاقے سیلاب کے خطرے سے دوچار

راولپنڈی، لاہور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، خانیوال، ساہیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، کوٹ اڈو، تونسہ، راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان کے علاقے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں بند نالوں کی وجہ سے واٹر لاگنگ کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے، جس سے زندگی متاثر ہو رہی ہے اور صحت کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کو نالوں کی تیاری اور صفائی نہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کا مشورہ

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ شدید بارشوں کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں اور خطرے والے علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کریں۔ انتظامیہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ کام تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read