حادثے کا شکار ایئر انڈیا کا طیارہ (فائل فوٹو)
ایئر انڈیا کی پرواز AI-171 کے حادثے پر غیر ملکی میڈیا کی مبینہ بے بنیاد اور گمراہ کن رپورٹنگ پر ہندوستانی پائلٹ برادری سخت برہم ہو گئی ہے۔ پائلٹوں کی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (FIP) نے رائٹرس اور وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے معافی اور خبر کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
12 جون کو ایئر انڈیا کی بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ میں اس وقت بحران پیدا ہو گیا جب پرواز کے دوران اچانک دونوں انجنوں کے فیول سوئچ کٹ آف ہو گئے۔ حادثہ کی ابتدائی جانچ رپورٹ ہندوستان کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) نے جاری کی ہے، جس کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ دوسرے سے سوال کرتا ہے، فیول کیوں بند کیا گیا؟ جس پر جواب آتا ہے، میں نے تو نہیں کیا۔
الزامات اور قیاس آرائیاں
اس رپورٹ کے باوجود وال اسٹریٹ جرنل اور رائٹرس نے ’امریکی حکام کے ذرائع‘ کے حوالے سے خبر دی کہ پائلٹ نے جان بوجھ کر فیول بند کیا، گویا حادثہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہوا۔ FIP نے ان الزامات کو توہین آمیز، قیاس پر مبنی اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صحافتی بددیانتی کی بدترین مثال ہے۔
پائلٹس کا شدید ردعمل
FIP کے چیئرمین کیپٹن سی ایس رندھاوا نے بیان دیا، رپورٹ میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ پائلٹ نے جان بوجھ کر سوئچ بند کیے۔ ان اداروں نے بغیر تحقیق کے فرضی خبریں چلائیں۔ ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔
دیگر تنظیموں کی حمایت
ایئر لائن پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (ALPA-1) اور دیگر تنظیموں نے بھی اس غلط رپورٹنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غیر ذمہ دار صحافت عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔ ALPA-1 نے خبردار کیا: تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی پر الزام لگانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ خطرناک بھی۔
جانچ ایجنسیاں بھی بول پڑیں
AAIB نے بھی غیر ملکی میڈیا کی رپورٹنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، اور حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی چیئرپرسن جینیفر ہومینڈی نے کہا: ایئر انڈیا حادثے سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس قیاس آرائی پر مبنی اور وقت سے پہلے کی گئی ہیں۔ ہم AAIB کی قیادت میں جاری تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
پائلٹس کی تنظیم FIP نے جھوٹی خبروں پر قانونی نوٹس بھیج کر صحافتی احتساب کی مثال قائم کی ہے۔ جب تک مکمل اور حتمی جانچ سامنے نہ آ جائے، کسی پر بھی ذمہ داری تھوپنا نہ صرف غلط بلکہ خطرناک عمل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




