Bharat Express DD Free Dish

Iqra Hasan’s fake AI video: اقرا حسن کی فرضی اے آئی ویڈیو وائرل کرنے والوں کے خلاف بلائی گئی پنچایت، ڈیپ فیک بنانے والوں نے کان پکڑ کر معافی مانگی

فالوورز بڑھانے کی ہوس میں اے آئی کا غلط استعمال عام ہوگیا ہے، یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے فیس بک، انسٹاگرام سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اقرا حسن چودھری کے نام سے سیکڑوں فرضی اکاؤنٹس سرگرم ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر رکن پارلیمنٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو ایڈٹ کر کے اپلوڈ کیا جاتا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر فالوورز بڑھانے کی لالچ اتنی بڑھ گئی ہے کہ صحیح اور غلط کی تمیز ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال ہو رہا ہے۔ فالوورز حاصل کرنے کی دوڑ میں دو نوجوانوں نے کیرانہ سے سماجوادی پارٹی  کی خاتون رکن پارلیمنٹ اقرا حسن کو نشانہ بنایا۔

فالوورز کی دوڑ میں رکن پارلیمنٹ کو بنایا نشانہ

اطلاعات کے مطابق، ریاست ہریانہ کے ضلع نوح کے فیروز پور جھرکا بلاک کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نے مصنوعی ذہانت AI کے ذریعے اقرا حسن کا ایک جعلی اور قابل اعتراض ڈیپ فیک ویڈیو تیار کیا۔ بعد ازاں انہوں نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیا۔ جب یہ ویڈیو خود اقرا حسن تک پہنچی، تو انہوں نے فوراً اس کی جانچ کرائی۔

اقرا حسن نے دونوں نوجوانوں کو معاف کردیا

پیر کے روز رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے اس معاملے کی جانکاری ایک کانگریس لیڈر کو فون پر دی۔ ادھر اقرا حسن کے ڈیپ فیک ویڈیو کو لے کر عوام میں شدید ناراضی پائی گئی۔ اس معاملے پر گاؤں میں پنچایت بھی بلائی گئی، جس میں ان دونوں نوجوانوں کے والدین کو بھی حاضر ہونے کو کہا گیا۔ پنچایت میں دونوں نوجوانوں نے سب کے سامنے کان پکڑ کر معافی مانگی۔ اس کے بعد اقرا حسن نے ان نوجوانوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے انہیں معاف کر دیا، جس سے ان کے تحمل اور انسانیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اقرا حسن کے اس عمل کی ستائش کی ہے۔

جعلی اکاؤنٹس بنے دردِ سر

یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اقرا حسن چودھری کے نام سے سیکڑوں فرضی اکاؤنٹس سرگرم ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر رکن پارلیمنٹ کی تصاویر اور ویڈیوز کو ایڈٹ کر کے اپلوڈ کیا جاتا ہے۔ کچھ دن قبل اقرا حسن نے پولیس حکام کو ان جعلی اکاؤنٹس کی ایک فہرست بھی سونپی تھی، تاہم اب تک اس معاملے میں کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہو سکی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read